Urdu book · خدا کی دریافت

ایک مثال

Urdu book, p. 268

By Maulana Wahiduddin Khan

بنانے والے نے اس دنیا کو عجیب ڈھنگ سے بنایا ہے۔ یہاں واقعہ دکھائی دیتا ہے، مگر صاحب واقعہ نظر نہیں آتا۔ یہاں تخلیق (creation) کا منظر ہر طرف پھیلا ہوا ہے، مگر ان کے درمیان خالق (Creator) بظاہر کہیں موجود نہیں۔ اس صورتِ حال نے بہت سے لوگوں کو خدا کا منکر بنا دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم خدا کو دیکھتے نہیں، تو ہم کیسے اسے مانیں، مگر خدا کے انکار کے لیے یہ بنیاد کافی نہیں۔ ہم جس ٹرین پر سفر کر رہے ہیں وہ ایک بہت بڑی ٹرین ہے۔ وہ 110 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل دوڑ رہی ہے۔ ہم اس کے اندر بیٹھے ہوئے منزل کی طرف چلے جا رہے ہیں ۔ بہ ظاہر ہم ریل کے ڈرائیور کو نہیں دیکھتے۔ اس کا نام بھی ہم کو نہیں معلوم۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ گاڑی کا ایک ڈرائیور ہے، اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔ ہم کو یہ یقین کیوں ہے۔ منکر خدا کہیں گے، اس لیے کہ اگر چہ ہم ڈرائیور کو نہیں دیکھتے، مگر ہم اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ ممکن ہے کہ کسی بھی اسٹیشن پر اتر کر انجن کے پاس جائیں، اور وہاں اس کو دیکھیں ۔ لیکن یہ محض ایک مغالطہ ہے۔ اگر ہم اسٹیشن پر اتر کر انجن کے پاس جائیں، اور گاڑی کے ڈرائیور کو دیکھیں تو ہم کیا چیز دیکھیں گے۔ ہم صرف ہاتھ پاؤں والے ایک جسم کو دیکھیں گے۔ مگر کیا یہی دکھائی دینے والا جسم ہے جو گاڑی کو چلا رہا ہے۔ یقیناً نہیں۔ انجن کو چلانے والا در اصل ذہن ہے، نہ کہ ظاہری جسم۔ چنانچہ موت کے بعد ڈرائیور کا جسم پوری طرح موجود رہتا ہے، مگر وہ گاڑی کو چلا نہیں پاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں بھی وہی صورت حال ہے— ہم گاڑی کا ایک ڈرائیور مان رہے ہیں، بغیر اس کے کہ ہم نے ڈرائیور کو واقعی طور پر دیکھا ہو۔ موجودہ زمانے کے منکرین خدا کہتے ہیں کہ یہ دنیا محض اتفاق سے بن گئی ہے۔ اس کا کوئی موجد اور خالق نہیں۔ مگر موجودہ کائنات جیسی بامعنی کائنات کا محض اتفاق سے ظہور میں آنا ممکن نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کباڑ خانے میں دھماکہ ہونے سے ایک ایکسپریس ٹرین برآمد ہو جائے یا اچانک ایک ہوائی جہاز بن کر ہوا میں اڑنے لگے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page