Urdu book · خدا کی دریافت

کائناتی مشین

Urdu book, p. 269

By Maulana Wahiduddin Khan

کائناتِی مشین 1965 کی جنگ میں پاکستان کے پاس زیادہ بہتر ہتھیار تھے۔ ہندوستان کے وجینیت ٹینک کے مقابلے میں پاکستان کا برطانی پیٹن ٹینک زیادہ اعلیٰ تھا۔ ہندوستان کے فائٹر طیارے نیٹ (Gnat) کے مقابلے میں پاکستان کے فائٹر طیارے سیبر جیٹ (Sabrejet) زیادہ طاقت کے ساتھ مار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ پھر بھی ہندوستان کو جیت ہوئی۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان کے ہتھیار اس کے اپنے بنائے ہوئے تھے۔ وہ ان کو استعمال کرنے کی مکمل مہارت رکھتا تھا جب کہ پاکستان کے ہتھیار بیرونی ملکوں کے بنے ہوئے تھے۔ چنانچہ پاکستانی سپاہی ان کو مہارت کے ساتھ استعمال نہ کر سکے۔ ایک جنگی تبصرہ نگار نے اس کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے: Even the most sophisticated technology of warfare is handled ultimately by men engaged in the profession of soldiering. Its use in combat depends therefore greatly on their skill, training, morale and ingenuity. The doctrine of the supremacy of the man behind the gun thus remains valid even in this age of push-button wars. جنگ کی انتہائی پیچیدہ مشینری بھی آخر کار متعلقہ فوجی آدمیوں ہی کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔ اس لیے جنگ میں ان کا استعمال بہت بڑی حد تک ان کی مہارت، تربیت، جرأت اور تدبیر پر منحصر ہوتا ہے۔ قدیم اصول کے مطابق بندوق کا استعمال کرنے والے آدمی کی اہمیت آج بھی بدستور باقی ہے، حتیٰ کہ اس بٹن دبانے والے دور میں بھی (ٹائمز آف انڈیا، 2 مذکورہ قسم کے واقعات کائنات کی مشینی تعبیر کی تردید ہیں۔ ہماری مشینوں کو چلانے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page