Urdu book · خدا کی دریافت

خدا کی دریافت

Urdu book, p. 283

By Maulana Wahiduddin Khan

واضح ہو کہ پیٹر یا پطرس حضرت عیسیٰ کے بارہ حواریوں میں سے ایک تھے، اور عیسائیوں کے یہاں بڑے بزرگ مانے جاتے ہیں۔ میخائل گورباچیف کمیونسٹ حکومت کے آخری زمانے میں 1990 میں راقم الحروف نے سوویت یونین (روس) کا سفر کیا تھا۔ اُس وقت میخائل گورباچیف (Mikhail Gorbachev) وہاں کے صدر تھے۔ اُس زمانے میں وہاں آزادی کا دور شروع ہو چکا تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں کے چرچ اور مسجدیں جو پہلے ویران رہا کرتی تھیں، اب وہاں مذہبی سرگرمی دکھائی دیتی ہے۔ میں نے اپنے گائڈ سے کہا کہ ہم نے پہلے سنا تھا کہ روس میں مذہب مر چکا ہے، مگر یہاں تو وہ زندہ حالت میں دکھائی دیتا ہے۔ گائڈ نے جواب دیا کہ مذہب یہاں ہمیشہ زندہ تھا۔ جو فرق ہوا ہے، وہ صرف یہ کہ پہلے یہاں مذہب انڈر گراؤنڈ (underground) تھا، اور اب وہ سامنے آگیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اور مذہب کا تصور انسان کی فطرت میں آخری حد تک پیوست ہے۔ کوئی شخص اگر اپنی زبان سے خدا کا انکار کرے، تب بھی خدا کا شعور اس کے دل کے اندر پوری طرح موجود رہتا ہے۔ سوویت یونین کے سابق صدر میخائل گورباچیف پہلے ایک ملحد کمیونسٹ تھے، مگر اب ان کی دبی ہوئی فطرت جاگ اٹھی ہے۔ انھوں نے خود اس کا اعتراف کیا ہے۔ برٹش نیوز پیپر ڈیلی ٹیلی گراف (The Daily Telegraph) کی ایک رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (20 مارچ 2008) میں چھپی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ گورباچیف اٹلی کے ایک چرچ میں پہنچے، اور وہاں انھوں نے اپنے عقیدے کے مطابق ، خدا کی عبادت کی: Gorbachev, who had earlier publicly pronounced himself

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page