برٹرینڈ رسل
Urdu book, p. 285
By Maulana Wahiduddin Khan
برٹرینڈ رسل برٹرینڈ رسل (1970-1872) ایک انگریز مفکر ہے۔ وہ موجودہ زمانے کا بہت بڑا ملحد سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کی سوانح عمری بتاتی ہے کہ انسان بہ ظاہر خواہ کتنا ہی بڑا ملحد ہو جائے وہ اپنے آپ کو خدائی فطرت سے آزاد نہیں کر سکتا۔ برٹرینڈ رسل 1952 میں یونان گیا۔ اس سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ اپنی سوانح عمری میں لکھتا ہے کہ یہ یونان کا میرا پہلا سفر تھا، اور جو کچھ میں نے دیکھا وہ میرے لیے بے حد دلچسپی کا باعث تھا۔ ایک پہلو سے تو مجھے خود تعجب ہوا۔ وہ عظیم اور ٹھوس کامیابیاں جن کو دیکھ کر ہر شخص متاثر ہوتا ہے۔ میں بھی متاثر ہوا۔ پھر میں نے اپنے آپ کو ایک چھوٹے سے چرچ میں پایا۔ یہ اس وقت کی یادگار تھا جب کہ یونان بازطینی سلطنت کا حصہ تھا۔ مجھے سخت حیرانی ہوئی جب میں نے دیکھا کہ اس سے میں نے اپنے آپ کو اس سے زیادہ مانوس پایا جتنا کہ میں یونان کی قبل مسیح دور کی یادگاروں سے متاثر ہوا تھا۔ میں نے اس وقت محسوس کیا کہ مسیحی نقطہ نظر میرے اوپر اس سے زیادہ غالب ہے، جتنا کہ میں نے سمجھا تھا۔ یہ غلبہ میرے عقائد پر نہیں تھا بلکہ میرے احساسات پر تھا: To my astonishment, I felt more at home in this little church than I did in the Parthenon or in any of the other Greek buildings of Pagan times. I realised then that the Christian outlook had a firmer hold upon me than I had imagined. The hold was not upon my belief, but upon my feelings. (Russell Autobiography, Routledge, p. 541) یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جس کی ملحدانہ کتابوں میں سے ایک کتاب وہ ہے، جس کا نام ہے: میں عیسائی کیوں نہیں (Why I Am Not A Christian)۔ حقیقت یہ ہے کہ برٹرینڈ رسل کے یہ الفاظ اس کی فطرت کی پکار ہیں۔ ہر انسان کی فطرت میں خدا اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader