Urdu book · خدا کی دریافت

مذہب کی طرف واپسی

Urdu book, p. 294

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈینیل بل نے لکھا ہے کہ 18 ویں صدی کے آخر سے لے کر 19 ویں صدی کے نصف تک تقریباً ہر ترقی پسند مفکر یہ خیال کرتا تھا کہ مذہب 20 ویں صدی میں ختم ہو جائے گا۔ یہ عقیدہ عقل کی طاقت کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ نظریہ یہ تھا کہ انسان اپنے دماغ سے اپنے مسائل کو حل کرلے گا، اور اس کے بعد مذہب اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ مگر ایسا نہ ہوسکا۔ ہم نے ٹیکنالوجی کے ذریعے غیر معمولی طاقت فطرت کے اوپر حاصل کرلی۔ اس کے باوجود 20 ویں صدی غالباً انسانی تاریخ کی سب سے بھیانک صدی ہے۔ چونکہ انسان کے سیکولر خدا ناکام ہو گئے ہیں، وہ روایتی خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ دیکھنے لگا ہے۔ ایک پروفیسر کے الفاظ میں روایت دوبارہ مثبت قوت کے ساتھ ایجنڈ اپر آگئی ہے۔ مذہب کی طرف یہ واپسی حقیقتاً فطرت کی طرف واپسی ہے۔ یعنی اس خدا کی طرف واپسی جس کا احساس اس کی فطرت میں پیوست ہے، نہ کہ اس خدا کی طرف جس کی نمائندگی وہ اپنے موروثی مذہب میں پا رہا ہے۔ ہارورڈ لاء اسکول کے پروفیسر آلن ڈرشوو ٹز (Alan Dershowitz, b. 1945) نے کہا کہ یہ بڑی عجیب چیز ہے کہ میری نسل مذہب کی طرف واپس آئے۔ ہم وہ نسل ہیں جس کو ہر قسم کی آزادی اور ہر طرح کی چھوٹ حاصل تھی۔ مگر ہمیں یہ تجربہ ہوا کہ اس آزادی کی کوئی جڑ نہیں۔ یہی بے جڑ ہونے کا احساس ہے، جو اکثر دانشوروں کو دوبارہ مذہب کی طرف لایا ہے۔ ایک دوسرے پروفیسر مسٹر کولس نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں خدا میں عقیدہ رکھتا ہوں۔ میں روحانیت کی تلاش میں ہوں نہ کہ کسی خاص مذہب کو ماننے والا۔ میری زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ میں ٹھہر جاتا ہوں اور خدا کو پکارنے لگتا ہوں۔ لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ وہ خدا کون ہے، اور اس کی صورت کیا ہے تو میں تردد میں پڑ جاؤں گا۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں انتشار ذہنی کا شکار ہوں۔ اگرچہ میں نہیں چاہتا کہ ذہنی انتشار میری زندگی پر پوری طرح چھا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page