تبصره
Urdu book, p. 295
By Maulana Wahiduddin Khan
تبصرہ یہ صورتِ حال جو غیر مسلم اقوام میں پیدا ہوئی ہے، یہی خود مسلمانوں میں بھی پیدا ہوئی ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر بھی دین کی طرف از سرِ نو رجوع پیدا ہوا ہے۔ مگر اس رجوع کا تعلق کسی ”عہد ساز مفکر“ یا کسی ”خدا رسیدہ بزرگ “ سے نہیں ہے۔ یہ تمام تر ایک زمانی مظہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر قوم میں یکساں طور پر پیدا ہوا ہے۔ مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی، بدھسٹ، وغیرہ سب کے یہاں اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں ایک مذہب اور دوسرے مذہب کا کوئی فرق نہیں۔ اس نئی صورتِ حال کی وجہ مغربی انسان کی وہ مایوسی ہے، جو اس کو موجودہ صدی میں پیش آ رہی ہے۔ بیسویں صدی عقلیت اور سائنس کی صدی تھی۔ جدید انسان کو یقین ہو گیا تھا کہ وہ اپنی عقل اور اپنی سائنس سے وہ سب کچھ حاصل کر لے گا، جس کی امید پہلے صرف مذہب سے کی جاتی تھی۔ مگر اس کی امیدیں پوری نہیں ہوئیں ۔ انسان کی عقلیت نے اس کو صرف بے یقینی تک پہنچایا، اور اس کی سائنس ایٹمی جنگ کا سیاہ بادل بن کر اس کے سر پر منڈلانے لگی۔ چوں کہ لوگوں کے سیکولر خدا نا کام ہو گئے ۔ اس لیے لوگوں نے روایتی خدا کی طرف زیادہ توجہ کے ساتھ دیکھنا شروع کر دیا۔ اس طرح موجودہ صورتِ حال نے ہمارے لیے ایک نیا امکان کھولا ہے۔ اس نے خدا کے محفوظ دین (اسلام) کی تبلیغ و اشاعت کا ایک نیا موافق میدان پیدا کر دیا ہے۔ آج کا انسان خدا اور مذہب کی تلاش میں نکلا ہے۔ مگر یہ تمام تر فطرت کے زور پر ہے۔ موجودہ مذاہب تحریف ہو جانے کی بنا پر اس کی تلاش کا حقیقی جواب نہیں ہیں۔ یہاں ضرورت ہے کہ اس کو بتایا جائے کہ جس مذہب کی تمہیں تلاش ہے، وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader