ڈارون کا اعتراف
Urdu book, p. 311
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈارون کا اعتراف چارلس ڈارون (1809-1882) نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان دوسرے حیوانات ہی کی ترقی یافتہ نسل ہے۔ یہ ایک بے حد عجیب نظریہ تھا۔ کیونکہ انسان انتہائی غیر معمولی حد تک دوسرے جانوروں سے مختلف ہے۔ پھر کیسے یہ ممکن ہوا کہ ایمبا کا دماغ ترقی کرتے کرتے انسان کا دماغ بن جائے۔ یہ نظریہ اتنا بعید از قیاس تھا کہ ڈارون خود اپنے اس نظریے کے بارے میں حیرانی میں مبتلا ہو گیا۔ اس نے اپنی ڈائری, (Darwin's Diary) میں لکھا ہے: (April 1881) انسان کا دماغ جس کے متعلق میرا کامل عقیدہ ہے کہ وہ اس معمولی دماغ سے ترقی کر کے بنا ہے جو انتہائی ادنیٰ حیوانات کو حاصل ہوتا ہے۔ کیا ایسے دماغ پر اس وقت بھروسہ کیا جا سکتا ہے، جب کہ وہ اتنے بڑے بڑے نتائج کر رہا ہو۔ میں یہ دکھانے کی جھوٹی کوشش نہیں کروں گا کہ میں اس قسم کے مشکل مسائل پر کچھ بھی روشنی ڈال سکتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی اور کائنات کی تشریح کا مسئلہ ناقابلِ قیاس حد تک بڑا مسئلہ ہے۔ کوئی انسان اپنی محدود عمر اور محدود صلاحیت کے ساتھ اس کی تشریح کا اہل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی اس کی تشریح کرنے بیٹھتا ہے وہ ہمیشہ احساسِ عجز کا شکار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader