جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
Urdu book, p. 329
By Maulana Wahiduddin Khan
قید سے آزاد دنیا۔ مجھے یہاں مذہب سے ملتا جلتا ایک سکون نصیب ہو گیا۔ “ برطانیہ کے اس عظیم مفکر نے خدا کو اپنا معبود بنانے سے انکار کر دیا۔ مگر معبود کی ضرورت سے پھر بھی وہ بے نیاز نہ رہ سکا، اور جس مقام پر پہلے اس نے خدا کو بٹھا رکھا تھا، وہاں ریاضی اور فلسفے کو بٹھانا پڑا— یہی نہیں بلکہ ریاضی اور فلسفے کے لیے وہ صفات بھی تسلیم کرنی پڑیں، جو صرف خدا ہی کی صفت ہو سکتی ہے — ابدیت اور وقت کی قید سے آزادی ؛ کیونکہ اس کے بغیر اسے مذہب سے ملتا جلتا وہ سکون نہیں مل سکتا تھا، جو دراصل اس کی فطرت تلاش کر رہی تھی۔ ایسے لوگ جو خدا کو نہیں مانتے اور پرستش کو بے معنی چیز سمجھتے ہیں، وہ اپنے خود ساختہ بتوں کے آگے جھک کر اپنے اندرونی جذبہ عبودیت کو تسکین دیتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ”الہ‘‘ انسان کی ایک فطری ضرورت ہے، اور یہی اس کا ثبوت ہے کہ وہ حقیقی ہے۔ انسان اگر خدا کے سامنے نہ جھکے تو اس کو دوسرے الہوں (معبودوں) کے سامنے جھکنا پڑے گا۔ کیونکہ الہ کے بغیر اس کی فطرت اپنے خلا کو پر نہیں کر سکتی۔ مگر بات صرف اتنی نہیں ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر میں کہتا ہوں کہ جو لوگ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بناتے ہیں، وہ ٹھیک اسی طرح حقیقی سکون سے محروم رہتے ہیں جیسے کوئی بچے سے محروم ماں پلاسٹک کی گڑیا خرید کر بغل میں دبالے اور اس سے تسکین حاصل کرنا چاہے ۔ ایک ملحد انسان خواہ وہ کتنا ہی کامیاب کیوں نہ ہو۔ اس کی زندگی میں ایسے لمحَات آتے ہیں جب وہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ حقیقت اس کے سوا کچھ اور ہے، جو میں نے پائی ہے۔ آزادی سے بارہ سال پہلے 1935ء میں جب پنڈت جواہر لَالَ نہرو نے جیل خانے میں اپنی آپ بیتی مکمل کی تو اس کے آخر میں انھوں نے لکھا: ”میں محسوس کرتا ہوں کہ میری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader