Urdu book · خدا کی دریافت

خلاق علیم

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

بگ بینک، لٹل بینک انسان ہمیشہ یہ سوچتا رہے کہ موجودہ کائنات کیسے بنی۔ وہ عقلی سطح پر اس کا جواب پانا چاہتا تھا۔ بیسویں صدی عیسوی کے ربع اول میں پہلی بار انسان کو اس کا عقلی جواب ملا۔ فلکیاتی سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ تقریباً 13.8 بلین سال پہلے، خلا میں ایک انفجار (explosion) ہوا۔ اس انفجار کو عام طور پر بگ بینک (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ فلکیاتی سائنس کے اعتبار سے، اسی بگ بینک کے بعد بتدریج موجودہ کائنات وجود میں آئی۔ تاہم ایک سوال کا عقلی جواب ابھی باقی تھا، وہ یہ کہ ہمارا شمسی نظام (solar system) کیسے بنا۔ شمسی نظام، ساری کائنات میں ایک استثنائی نظام ہے۔ اس نظام کے اندر سیارہ زمین ایک انتہائی استثنائی قسم کا سیارہ ہے۔ علمائے فلکیات اس بات کی عقلی توجیہ نہیں کر سکے تھے کہ کائنات میں استثنائی قسم کا موجودہ شمسی نظام کیسے بن گیا۔ بگ بینک کی دریافت کے تقریباً سو سال بعد، اکیسویں صدی کے ربع اول میں، سائنس دانوں نے سوئزرلینڈ میں کچھ خصوصی تجربات کیے۔ ان تجربات کے دوران یہ معلوم ہوا کہ بگ بینک کے واقعے کے بہت بعد خلا میں ایک چھوٹا انفجار ہوا۔ اس کو سائنس دانوں نے لٹل بینک (Little Bang) کا نام دیا ہے۔ اس لٹل بینک کے بعد شمسی نظام وجود میں آیا اور بتدریج وہ استثنائی سیارہ بنا جس کو زمین (planet earth) کہا جاتا ہے۔ بگ بینک اور لٹل بینک کی یہ دونوں سائنسی دریافتیں بتاتی ہیں کہ کائنات کی تخلیق ایک اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی کے ذریعے ہوئی۔ یہ کائنات کسی اتفاق (accident) کے ذریعے وجود میں نہیں آئی، بلکہ وہ ایک بالقصد منصوبے کے ذریعے وجود میں آئی۔ یہ واقعہ اپنے آپ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات کی ایک منزل ہے۔ یہ کائنات پورے معنوں میں ایک با معنیٰ کائنات ہے، اور ایک با معنیٰ کائنات کسی بے معنی انجام پر ختم نہیں ہوسکتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page