جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
Urdu book, p. 330
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی کا ایک باب ختم ہو گیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہوگا۔ اس میں کیا ہوگا، اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کر سکتا۔ کتاب زندگی کے اگلے ورق نامعلوم ہیں۔“ Nehru, An Autobiography, London, p. 597 نہرو کی زندگی کے اگلے اوراق کھلے تو معلوم ہوا کہ وہ دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ملک کے وزیر اعظم ہیں، اور دنیا کی آبادی کے چھٹے حصے پر بلا شرکت حکومت کر رہے ہیں، مگر اس یافت نے نہرو کو مطمئن نہیں کیا، اور اپنے انتہائی عروج کے زمانے میں بھی وہ محسوس کرتے رہے کہ کتاب زندگی کے مزید کچھ اوراق ہیں، جو ابھی تک بند ہیں، اور وہی سوال آخر عمر میں بھی ان کے ذہن میں گھومتا رہا، جس کو لے کر ہر انسان پہلے روز پیدا ہوتا ہے۔ جنوری 1964 کے پہلے ہفتے میں مستشرقین کی بین الاقوامی کانفرنس نئی دہلی میں ہوئی، جس میں ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے بارہ سو ڈیلیگیٹ شریک ہوئے۔ پنڈت نہرو نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا: ”میں ایک سیاستدان ہوں، اور مجھے سوچنے کے لیے وقت کم ملتا ہے۔ پھر بھی بعض اوقات میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ آخر یہ دنیا کیا ہے، کس لیے ہے، ہم کیا ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ کچھ طاقتیں ہیں جو ہماری تقدیر کو بناتی ہیں۔“ National Herald, 6 January, 1964 یہ ایک عدم اطمینان ہے، جو ان تمام لوگوں کے روحوں پر گہرے کہر کی طرح چھایا رہتا ہے، جنھوں نے خدا کو اپنا الہ اور معبود بنانے سے انکار کیا۔ دنیا کی مصروفیتوں اور وقتی دلچسپیوں میں عارضی طور پر کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اطمینان سے ہم کنار ہیں مگر جہاں یہ مصنوعی ماحول ختم ہوا، حقیقت اندر سے زور کرنا شروع کر دیتی ہے، اور انھیں یاد دلاتی ہے کہ وہ سچے اطمینان سے محروم ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader