جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
Urdu book, p. 331
By Maulana Wahiduddin Khan
(Michael Brecher, b. 1925) مک گل یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل بریچر نے پنڈت جواہر لال نہرو کی سیاسی سوانح حیات لکھی ہے۔ اس سلسلے میں مصنف نے پنڈت نہرو سے ملاقات بھی کی تھی۔ نئی دہلی کی ایک ملاقات میں 13 جون 1956ء کو انھوں نے پنڈت نہرو سے سوال کیا: ”آپ مختصر طور پر مجھے بتائیے کہ آپ کے نزدیک اچھے سماج کے لیے کیا چیزیں ضروری ہیں اور آپ کا بنیادی فلسفہ زندگی کیا ہے۔“ جواہر لال نہرو نے جواب دیا: ”میں کچھ معیاروں کا قائل ہوں، آپ ان کو اخلاقی معیار (moral standards) کہہ لیجیے۔ یہ معیار ہر فرد اور سماجی گروہ کے لیے ضروری ہیں۔ اگر وہ باقی نہ رہیں تو تم مادی ترقی کے باوجود آپ کسی مفید نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے۔ ان معیاروں کو کیسے قائم رکھا جائے، یہ مجھے نہیں معلوم۔ ایک تو مذہبی نقطہ نظر ہے۔ لیکن یہ اپنے تمام رسوم اور طریقوں کے ساتھ مجھے تنگ نظر آتا ہے— میں اخلاقی اور روحانی قدروں کو مذہب سے الگ کر کے بہت اہمیت دیتا ہوں، لیکن میں نہیں جانتا کہ ان کو ماڈرن زندگی میں کس طرح قائم رکھا جا سکتا ہے۔ یہ ایک مسئلہ ہے۔“ Nehru: A Political Biography, London 1959, pp. 607-08 یہ سوال و جواب جدید انسان کے اس دوسرے خلا کو بتاتا ہے، جس میں آج وہ شدّت سے گرفتار ہے۔ افراد کو دیانت و اخلاق کے ایک خاص معیار پر باقی رکھنا ہر سماجی گروہ کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس کے بغیر تمدن کا نظام صحیح طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ مگر خدا کو چھوڑنے کے بعد انسان کو نہیں معلوم کہ وہ اس ضرورت کو کیسے پورا کرے۔ سینکڑوں سال کے تجربے کے بعد وہ ابھی بدستور تلاش کی منزل میں ہے۔ یہ علامتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بے خدا تہذیب نے انسانیت کی گاڑی کو دلدل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader