توحید کا تصور اسلام میں
Urdu book, p. 334
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حالت پر ٹھہری ہوئی نہیں ہے۔ بلکہ یکساں رفتار سے اپنے چاروں طرف مسلسل پھیل رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی میں کسی وقت کائنات سمٹی ہوئی حالت میں تھی۔ فلکیات دانوں کے خیال کے مطابق، ابتدا میں پوری کائنات ایک بڑے ایٹم (super atom) کی صورت میں تھی۔ اس کے تمام اجزا بے حد قوت کے ساتھ اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ تقریباً 13.8 بلین سال پہلے اس ابتدائی مادہ میں ایک دھماکہ یا اخراج طاقت (energy release) کا واقعہ ہوا، جس کے نتیجے میں سپراٹم کے اجزا اپنے مرکز سے ٹوٹ کر اپنے چاروں طرف پھیلنے لگے تا کہ موجودہ کائنات کو وجود دے سکیں ۔ سپراٹم کے اندر اس وقت جو اسباب کام کر رہے تھے، وہ تمام تر صرف اندر کی طرف کھینچنے اور سمٹنے کے تھے ۔ اپنے ذاتی قانون کے برخلاف اس کے اجزا کا باہر کی طرف سفر شروع کرنا لازماً کسی خارجی طاقت کی مداخلت ہی سے ہو سکتا تھا۔ یہ واقعہ ہم کو مجبور کرتا ہے کہ ہم کائنات کے ماسوا ایک آزاد طاقت ور ترین ہستی کا وجود تسلیم کریں، اور یہ کہ اس نے اپنے شعوری عمل سے ابتدائی مادہ کے اندر یہ غیر معمولی حرکت پیدا کی۔ قرآن میں ایک مقام پر کائنات کے نظم کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: زمین و آسمان میں اگر ایک خدا کے سوا کوئی اور خدا ہوتا تو ضرور ان میں بگاڑ پیدا ہو جاتا (21:22)۔ قرآن کے یہ الفاظ اُس کائناتی واقعے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ یہ مافوق طاقت صرف ایک ہے، کئی نہیں۔ تمام طبیعی علوم حیرت انگیز طور پر اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ پوری کائنات ایک ہی قانون کے تحت چل رہی ہے۔ جو قوانین زمین پر کام کر رہے ہیں، وہی نہایت صحت کے ساتھ اجرامِ سماوی میں بھی کارفرما ہیں۔ یہی یقین تھا جس نے انسان کو آمادہ کیا کہ وہ کھربوں ڈالرز خرچ کر کے خلائی مشینین بنائے، اور ان کو چاند اور مریخ پر عین اپنے اندازے کے مطابق اتار سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader