Urdu book · خدا کی دریافت

توحید کا تصور اسلام میں

Urdu book, p. 335

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر ساری کائنات ایک قانون کے تحت مکمل صحت کے ساتھ عمل نہ کر رہی ہو تو زمین پر لگی ہوئی ہماری دوربینیں وسیع کائنات میں آٹھ ہزار ملین سال نور تک نہ ”دیکھ“ سکیں۔ ہمارے طبیعی علوم اچانک اپنی تمام اہمیت کھودیں۔ کائنات کا اس قدر درست طور پر وحدانی حالت میں ہونا بتاتا ہے کہ وہ صرف ایک خدا کے کنٹرول میں ہے۔ اگر وہ کئی خداؤں کے کنٹرول میں ہوتی تو یقیناً اس میں انتشار برپا ہو جاتا۔ مختلف خداؤں کی کش مکش میں وہ درہم برہم ہو کر رہ جاتی۔ زمین پر ایک قانون کی حکمرانی ہوتی اور سیاروں پر دوسرے قانون کی۔ قرآن میں ایک مقام پر کائنات کے مینجمنٹ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: (ترجمہ) اللہ نے پیدا کی ہر چیز اور پھر ہر ایک کا ایک اندازہ مقرر کر دیا (25:2)۔ طبیعیاتی مشاہدہ بتاتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز کا ایک قانون ہے، اور وہ انتہائی لزوم کے ساتھ اس پر قائم ہے۔ انسائیکلوپیڈیا آف اگنورنس میں ڈاکٹر آئن رکسبرگ (پروفیسر تطبیقی ریاضیات، کوئن میری کالج لندن) لکھتے ہیں: ” کائنات تعجب خیز حد تک یکساں (uniform) ہے۔ ہم خواہ کسی طور پر بھی اس کو دیکھیں، کائنات کے اجزا میں وہی ترکیب اسی تناسب سے پائی جاتی ہے۔ زمین پر جو طبیعیاتی قوانین دریافت کیے گئے ہیں، وہ تحکمی اعداد (arbitrary numbers) پر مشتمل ہیں۔ جیسے الیکٹران کی مقدارِ مادہ کا تناسب ایک پروٹان کے مقدارِ مادہ (mass) سے، جو کہ تقریباً 1840 کے مقابلے میں ایک ہوتا ہے۔ یہی تناسب ہر جگہ اور ہر وقت پایا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا ایک خالق نے تحکمی طور پر (arbitrarily) انھیں اعداد کا انتخاب کر رکھا ہے۔ کیا کائنات کے وجود کے لیے ان اعداد میں وہی تناسب ضروری ہے جو ہم دیکھتے ہیں؟“ (سنڈے ٹائمز، لندن، 4 دسمبر 1977)۔ یہ واقعہ صاف طور پر بتاتا ہے کہ کائنات ہر آن ایک زبردست ہستی کے کنٹرول میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page