توحید کا تصور اسلام میں
Urdu book, p. 336
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ جو خدا کائنات کا خالق ہے ، وہی اس کا حکمراں بھی ہے ۔ اس سلسلے میں یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی " خدا اگر ہے تو ہم کو نظر کیوں نہیں آتا ۔ " ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں ہمارے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ چیزوں کو دیکھے بغیر مانیں ۔ یہ صرف خدا کے عقیدے کا سوال نہیں ہے ۔ ہم جس کائنات میں ہیں اور جس کو ہم بہر حال مانتے ہیں ، اس میں بے شمار چیزیں ہیں ، جن کو ہم نہیں دیکھتے ، اور نہیں دیکھ سکتے ۔ مگر اس کے باوجود ہم ان کو ماننے پر مجبور ہیں ۔ خدا کے سوا موجودہ کائنات کو بھی ہم ایمان بالغیب کا طریقہ اختیار کیے بغیر نہیں سمجھ سکتے ۔ مثال کے طور پر ایٹم میں کئی قسم کے ذرات (particles) تسلیم کیے گئے ہیں ۔ ان میں سے ایک نیوٹرینو (neutrino) ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس ذرے میں کوئی برقی چارج نہیں ہوتا ۔ حتیٰ کہ اس میں کوئی مادہ (mass) بھی نہیں ہوتا ۔ گو یا وہ ایک لاشئے وجود ہے ۔ ایک سائنس داں کے الفاظ میں نیوٹرینو لا شئے کا ایک چھوٹا سا پلندہ ہے : Neutrino is a tiny bundle of nothing. اس لاشئے کا وجود کیوں تسلیم کیا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایٹم (atom) میں بعض ایسے خواص ظاہر ہوتے ہیں ، جن کی توجیہ اس کے بغیر نہیں بنتی کہ ایٹم کے ڈھانچے میں ایک غیر ذرہ (non-particle) کا وجود تسلیم کیا جائے ۔ اس مفروضہ نیوٹرینو کے عجیب و غریب اوصاف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ کسی بھی مادی جسم سے بغیر روک ٹوک گزر سکتا ہے ۔ حتیٰ کہ وہ اپنے سفر میں پورے کُرۂ ارض کو اس کے اندر سے پار کر سکتا ہے ۔ نیوٹرینو کی اس خصوصیت کو انسانی استعمال میں لانے کے لیے امریکا میں تجربات ہورہے ہیں ۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگر نیوٹرینو کی اس خصوصیت کو قابل استعمال بنایا جا سکا تو پیغام رسانی کی دنیا میں انقلاب آجاۓ گا کائنات میں کسی چیز کو " دیکھنا " خالص علمی طور پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader