Urdu book · خدا کی دریافت

توحید کا تصور اسلام میں

Urdu book, p. 337

By Maulana Wahiduddin Khan

اس قدر ناممکن ہے کہ سائنسی فلسفی کے درمیان خود اس امر میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے کہ وہ کائنات کو ایک خارجی (objective) واقعہ قرار دیں یا محض ایک ذہنی یا داخلی (subjective) طور پر محسوس کی جانے والی چیز۔ خدا کو ماننا کبھی انسان کے لیے اتنا مشکل نہیں رہا ہے، جتنا خدا کا صحیح تصور قائم کرنا۔ تمام معلوم زمانوں سے انسان خدا کو مانتا رہا ہے، اور آج بھی کرۂ ارض کی آبادی کی بہت بڑی اکثریت خدا کے وجود کا اقرار کرتی ہے۔ مگر اصل کی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ خدا کو ماننے کے باوجود لوگ اس کے ساتھ ایسے عقیدے جمع کر لیتے ہیں، جس سے ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہو جاتا ہے۔ کسی نے خدا کو مانتے ہوئے اس کی ایسی تعبیر کی کہ خدا کا کوئی علیحدہ اور مستقل وجود ہی مشتبہ ہو گیا۔ کسی نے خدا کو مانا مگر اس کے ساتھ اس کے شرکا یا مقربین بارگاہ فرض کر لیے جس کے بعد خدا کی خدائی بے معنی ہو کر رہ گئی۔ خدا کے معاملے میں انسان کے بے راہ ہونے کی وجہ ہمیشہ صرف ایک رہی ہے۔ کائنات کے معلوم واقعات پر خدا کو قیاس کرنا۔ انسان کے یہاں بیٹے بیٹیاں ہوتی ہیں، اس لیے فرض کر لیا گیا کہ خدا کے لیے بھی بیٹے بیٹیاں ہوں گی۔ اور اس طرح ایک مقدس خدائی خاندان تیار ہو گیا۔ دنیا کے بادشاہوں کے یہاں کچھ مصاحبین اور درباری لوگ ہوتے ہیں۔ اس لیے فرض کر لیا گیا کہ خدا کے یہاں بھی کچھ مقرب ہیں، جن کو اس نے اختیار دے رکھا ہے، اور جن کی باتوں کو وہ سنتا ہے۔ دنیا میں بہت سی طاقتیں کام کرتی ہوئی نظر آئیں ۔ مثلاً سورج، ستارے، دریا وغیرہ۔ فرض کر لیا گیا کہ یہ سب خدائی میں شریک ہستیاں ہیں، اور بڑے خدا کے ساتھ مل کر خدائی کو چلا رہی ہیں۔ اس طرح خدا کا معاملہ ایک قسم کا "مشترک کاروبار“ کا معاملہ بن گیا، وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page