Urdu book · خدا کی دریافت

خدا کی دریافت

Urdu book, p. 338

By Maulana Wahiduddin Khan

مظاہر پرستی کی یہی قسم تھی، جس نے فلسفیانہ ذہنوں میں پہنچ کر وحدت وجود کی صورت اختیار کی۔ لوگوں نے دیکھا کہ ایک کائنات ہے، جو انسان سے لے کر ستاروں تک بے شمار چیزوں سے بھری ہوئی ہے۔ وہ اس تنوع میں وحدت تلاش کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ایک مطلق خدا ہے، جو اپنے آپ کو مختلف شکلوں میں ظاہر کر رہا ہے۔ اس طرح خدا کا تصور ایک ایسے مجرد خیال کی صورت میں ڈھل گیا، جس کی اپنی علیحدہ کوئی ہستی نہ ہو۔ ہر چیز اسی سے نکلتی ہو، اور ختم ہو کر دوبارہ اسی میں مل جاتی ہو۔ اسی تصور نے "انسانی خداؤں" کا عقیدہ پیدا کیا۔ یہ فرض کر لیا گیا کہ کچھ لوگ اپنی ریاضتوں سے اپنی دنیوی حیثیت کی اس طرح نفی کر لیتے ہیں کہ وہ جیتے جی خدا سے مل جاتے ہیں، اور اس طرح اپنی زندگی ہی میں اس خدا کا جزء بن جاتے ہیں جس کا جزء دوسرے لوگ مرنے کے بعد، ان کے عقیدے کے مطابق ، بننے والے ہیں۔ اسلام نے خدا کے تصور سے اِن تمام مفروضہ قیاس آرائیوں کو جدا کیا۔ اس نے بتایا کہ اس طرح کا ہر اضافہ دراصل خدا کے عقیدے کی نفی ہے ۔ خدا وہی خدا ہے جو ہر لحاظ سے یکتائی کی صفت رکھتا ہے۔ جو اپنی ذات وصفات میں اشتراک کی تمام قسموں سے پوری طرح پاک ہو۔ قرآن میں اس حقیقت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے : (ترجمہ ) کہو کہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے احتیاج ہے۔ اس کی اولاد نہیں۔ نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور نہیں ہے اس کے برابر کوئی (112:1-4)۔ توحید کی عملی اہمیت اسلام میں توحید کا عقیدہ ہیگل ( Georg Wilhelm Friedrich Hegel 1770-1831) کے فلسفے کی طرح محض ایک مجرد تصور (abstract idea) کی حیثیت نہیں رکھتا۔ انسان کی زندگی سے اس کا نہایت گہرا عملی تعلق ہے۔ اسلام کے نزدیک وہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page