Urdu book · خدا کی دریافت

توحید کی عملی اہمیت

Urdu book, p. 339

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کی نسبت کو معلوم نہ کر لیا جائے۔ خدا کی یکتائی کی دریافت تمام حقائق کی مرکزی وحدت کی دریافت ہے۔ وہی توحید توحید ہے، جو ہمارے اوپر حقائق کی ابدی معنویت کو واضح کر دے۔ جو نظر یہ حقائق کی معنویت کو بحیثیت ایک گل کے واضح نہ کرے، وہ خواہ اور جو کچھ ہوگا اسلامی نقطہ نظر سے اس کو توحید نہیں کہا جا سکتا۔ خدا کی وحدت کو پانا اسی وقت مکمل ہوتا ہے، جب کہ وہ اسی کے ساتھ انسان اور کائنات کی وحدت کو پانے کے ہم معنی بن جائے۔ وہ ایک ایسے فکر کا درجہ حاصل کر لے جہاں تمام تضادات ختم ہو جائیں، اور صرف وحدت ہی آخری حقیقت کے طور پر باقی رہ جائے۔ ڈارون نے خالق کا وجود تسلیم کیا ہے۔ مگر وہ یہ دریافت نہ کر سکا کہ خالق ہے تو اس کے اور انسان کے درمیان نسبت کیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ڈارون کے نظریے کے بطن سے تاریخ کا سب سے زیادہ شدید الحاد برآمد ہوا۔ توحید کے عقیدے کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ضروری ہے کہ توحید کا مطالعہ اس طرح کیا جائے کہ وہ ہم کو توحید اور انسان کے درمیان نسبت کی دریافت تک پہنچا سکے۔ اس کے بغیر نہ صرف یہ کہ یہ مطالعہ ادھورا رہے گا، بلکہ یہ بھی اندیشہ ہے کہ وہ سچائی کے مسافر کو الٹی سمت میں کسی دوسرے مقام پر پہنچانے والا بن جائے۔ توحید کا عقیدہ اور انسان انسان کائنات کا صرف ایک حقیر حصہ ہے۔ کائنات جس طرح مکمل طور پر اپنے خالق اور مالک کے تابع ہے، وہی انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کے لیے درست طرزِ عمل صرف یہ ہے کہ وہ اس حقیقت واقعہ کو تسلیم کرے، اور خدا کی اطاعت کو قبول کر کے بقیہ کائنات کا ہم سفر بن جائے۔ خدا جس طرح ساری کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اسی طرح انسان کے معاملات بھی اسی وقت سدھر سکتے ہیں، جب کہ وہ اپنے آپ کو خدائی کنٹرول میں دے چکا ہو۔ کائنات کی صحت کارکردگی کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو خدائی اخلاقیات کے رنگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page