خدا کی دریافت
Urdu book, p. 340
By Maulana Wahiduddin Khan
میں رنگ لیا ہے۔ انسانی زندگی کی درستگی کا راز بھی یہی ہے کہ وہ خدائی اخلاقیات میں اپنے آپ کو رنگنے کی کوشش کرے۔ توحید تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہے، اور ہر قسم کی خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ توحید دنیا میں قائم نہ ہو۔ توحید کیا ہے۔ اس حقیقتِ واقعہ کا تحقق کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا، اس کو سنبھالنے والا اور ہر قسم کی قوتوں کا واحد مالک صرف ایک اللہ ہے۔ اس کے سوا کسی کو اس کائنات میں کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ ذرے (atoms) سے لے کر کہکشانی نظاموں تک سارا عالم اس حقیقت توحید کی براہِ راست گرفت میں ہے۔ وہ مکمل طور پر ایک مالک الملک کے زیرِ انتظام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورا عالم اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ ٹھیک ویسا ہی ہے، جیسا کہ فی الواقع اس کو ہونا چاہیے۔ اس کی کارگزاری میں آج تک کسی ادنیٰ نقص کا مشاہدہ نہ کیا جاسکا۔ وہ اتنی کامل صحت کے ساتھ چل رہا ہے کہ کھرب ہا کھرب سال کے اندر بھی اس کی رفتار میں ایک سیکنڈ کا فرق نہیں پڑتا۔ موجودہ زمانے میں خدا کے وجود کے خلاف جو دلیلیں پیش کی گئی ہیں، ان میں سب سے اہم وہ ہے جس کو نقص کا مسئلہ (problem of evil) کہا جاتا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ کائنات میں نقائص ہیں۔ ان نقائص کی موجودگی میں یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اس کو کسی حکمت والے خدا نے بنایا ہے۔ اس سلسلے میں ایک شخص نے یہ مثال دی ہے کہ زمین کی قوتِ کشش (force of Gravity) اس سے بہت زیادہ ہے جتنا کہ اس کو ہونا چاہیے ۔ چنانچہ چند میٹر کی بلندی سے گرنے میں آدمی کا پاؤں ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر قوتِ کشش کم ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔ مگر اس قسم کی بات صرف کمتر غور و فکر کا نتیجہ ہے۔ کہنے والا یہ بھول گیا کہ گرنا تو ایک حادثہ ہے، جو معمول کے خلاف کبھی پیش آتا ہے۔ لیکن اگر زمین کی قوتِ کشش کم ہوتی تو اس پر معمول کی زندگی ہی درہم برہم ہو جاتی ــ انسان مضبوطی کے ساتھ زمین پر قائم نہ رہ سکتا، ہماری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader