Urdu book · خدا کی دریافت

توحید کا عقیدہ اور انسان

Urdu book, p. 341

By Maulana Wahiduddin Khan

ریلیں پٹریوں پر نہ دوڑ سکتیں ، ہمارے مکانات اور کارخانے اکھڑ جاتے ، پانی زمین پر نہ ٹھہر سکتا ، وغیرہ ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز جس کو بعض لوگوں نے نظامِ فطرت کا نقص سمجھا ہے ، وہ نظامِ فطرت میں اعتدال و توازن کا ثبوت ہے ۔ قرآن کے یہ الفاظ ناقابلِ چیلنج حد تک صحیح ہیں : (ترجمہ) اللہ نے بنائے سات آسمان اوپر تلے۔ تم اللہ کے اس بنانے میں کوئی فرق نہ دیکھو۔ تم پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو۔ کیا تم کو کوئی خلل دکھائی دیتا ہے ۔ بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو۔ تمھاری نگاہ عاجز ہو کر اور تھکی ہوئی تمھاری طرف لوٹ آئے گی (4-67:3) ۔ کائنات کا اس طرح بے عیب اور خالی از نقص ہونا اس لیے ہے کہ وہ براہِ راست خدا کے کنٹرول میں ہے ۔ وہ خدا کی صفات کا مادی ظہور ہے۔ مگر انسانی دنیا کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ اینٹن چیخوف (Anton Pavlovich Chekhov, 1860-1904) نے صحیح کہا ہے کہ ” یہ دنیا بے حد حسین ہے۔ اس میں صرف ایک ہی چیز ہے جو حسین نہیں ، اور وہ انسان ہے۔“ انسان ساری معلوم کائنات میں واحد مخلوق ہے ، جو اپنے جیسے انسانوں کے ساتھ عداوت کرتا ہے (سورہ البقرہ، 2:36)۔ وہ زمین پر اصلاح کے بجائے فساد برپا کرتا ہے (سورہ الاعراف، 7:56)۔ وہ ایسی کارروائیاں کرتا ہے ، جس کے نتیجے میں کھیتیاں اور نسلیں برباد ہوں (سورہ البقرہ، 2:205)، وغیرہ۔ دو دنیاؤں میں یہ فرق کیوں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بقیہ کائنات براہِ راست اللہ کے حکم کے تحت چل رہی ہے ۔ وہ ویسی ہی رہنے کے لیے مجبور ہے جیسی کہ خدا چاہتا ہے کہ وہ رہے۔ مگر انسان کو اللہ کی طرف سے آزادی ملی ہوئی ہے۔ وہ اپنے ارادے کے تحت صحیح یا غلط راستے پر چلنے کا اختیار رکھتا ہے۔ انسانی دنیا میں بگاڑ کی وجہ تمام تر یہی ہے ۔ بقیہ دنیا خدا کی مرضی کی پابند ہے ، اس لیے وہ مکمل طور پر درست ہے۔ اس کے برعکس ، انسان اپنی خواہشوں کی پیروی کرتا ہے ۔ اس لیے اس کے سارے معاملات میں فساد اور بگاڑ برپا رہتا ہے ۔ ہر برائی جو زمین پر پائی جاتی ہے ، وہ انسانی آزادی کا غلط استعمال ہے ۔ انسان نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page