Urdu book · خدا کی دریافت

توحید کا عقیدہ اور انسان

Urdu book, p. 342

By Maulana Wahiduddin Khan

فرشتوں کے اس اندیشے کو ساری تاریخ میں درست ثابت کیا ہے، جو انھوں نے اس کی پیدائش کے وقت خدا کے سامنے ظاہر کیا تھا کہ کیا تو ایسے لوگوں کو زمین میں اختیار دے رہا ہے جو وہاں فساد کرے اور خون بہائے ( سورہ البقرہ، 30: 2)۔ یہ آزادی جو انسان کو حاصل ہے، یہ مطلق آزادی نہیں۔ یہ صرف وقتی آزادی ہے، اور خاص منصوبے کے تحت دی گئی ہے۔ یہ دراصل امتحان کی آزادی ہے ( سورہ الملک، 67: 2)۔ کائنات کا مالک یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ان میں سے کون ہے، جو آزادی پا کر بھی آزادی کا غلط استعمال نہیں کرتا۔ تا کہ وہ ایسے لوگوں کو اپنے انعامات سے نوازے (سورہ الرعد، 22: 13)۔ دنیا کا موجودہ نظام صرف اس وقت تک ہے، جب تک جانچ کا یہ عمل پورا نہیں ہو جاتا۔ اس مدت کے پورا ہونے کے بعد زمین کا مالک زمین کا انتظام بھی براہِ راست اپنے ہاتھ میں لے لے گا، جس طرح وہ بقیہ کائنات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے (سورہ مریم، 40: 19)۔ اس وقت اچھے اور برے ایک دوسرے سے الگ کر دیے جائیں گے ( سورہ آل عمران، 197: 3)۔ اچھے لوگوں کو ابدی طور پر جنتی زندگی حاصل ہوگی، اور برے لوگ ابدی طور پر کائناتی کوڑا خانے میں دھکیل دیے جائیں گے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ موجودہ دنیا وہ مقام ہے جہاں آنے والی خدائی دنیا کے شہری چنے جا رہے ہیں۔ جو لوگ آزاد ہونے کے بعد بھی اپنے آپ کو اللہ کا حکم بردار بنائیں گے، جو مجبور نہ ہوتے ہوئے بھی اللہ کی مرضی کو اپنے اوپر طاری کریں گے، وہی اللہ کے نزدیک اس قابل ٹھیریں گے کہ وہ اللہ کی دنیا کے شہری بن سکیں۔ آج امتحان کے وقفے میں ہر طرح کے لوگ زمین پر بسے ہوئے ہیں۔ مگر امتحان کی مدت ختم ہونے کے بعد صرف صالح لوگ خدا کی اس ابدی دنیا کے وارث قرار پائیں گے ( سورہ الانبیاء، 105: 21)، اور بقیہ لوگوں کو اس سے بے دخل کر کے دور پھینک دیا جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page