خدا کا وجود
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کا وجود (یہ تقریر انگریزی زبان میں 9 مئی 2009 کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر، نئی دہلی، میں کی گئی تھی) آج کی شام کے لیے جو موضوع ہے، وہ یہ ہے — خدا کی دریافت کس طرح کی جائے۔ How to discover God? خدا کی دریافت کا معاملہ کوئی اکیڈمک معاملہ نہیں، یہ ہر انسان کا ایک ذاتی سوال ہے۔ ہر عورت اور مرد فطری طور پر اُس ہستی کو جاننا چاہتے ہیں جس نے اُن کو وجود دیا۔ میں بھی دوسروں کی طرح، اِس سوال سے دوچار ہوا ہوں۔ میری پیدائش ایک مذہبی ماحول میں ہوئی ۔ اِس کے اثر سے میں روایتی طور پر خدا کو ماننے لگا۔ بعد کو جب میرے شعور میں پختگی (maturity) آئی تو میں نے چاہا کہ میں اپنے اِس عقیدے کو ریزن آؤٹ (reason out) کروں ۔ اِس معاملے کی تحقیق کے لیے میں نے تمام متعلق علوم کو پڑھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، خدا کا موضوع تین علمی شعبوں سے تعلق رکھتا ہے — فلسفہ، سائنس اور مذہب۔ یہاں میں فلسفہ اور سائنس کی نسبت سے اپنے کچھ تجربات بیان کروں گا۔ سب سے پہلے مجھے فلسفہ میں اِس سوال کا ایک جواب ملا۔ مطالعے کے دوران میں نے فرانس کے مشہور فلسفی رینے ڈیکارٹ (وفات 1650) کو پڑھا۔ وہ انسان کے وجود کو ثابت کرنا چاہتا تھا۔ اُس نے کہا — میں سوچتا ہوں، اِس لیے میں ہوں: I think, therefore I am. (Discourse on the Method, Introduction p. 18) ڈیکارٹ کا یہ فارمولا جس طرح انسان کے وجود پر منطبق ہوتا ہے، اُسی طرح وہ خدا کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader