خدا کا وجود
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
مانا (inferential argument) کو بھی یکساں طور پر درست (valid) مانا جانے لگا، یعنی اب آرگومینٹ فرام سین ٹو آن سین (argument from seen to unseen) کا اصول بھی درست استدلال کی حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا۔ ان دونوں طریقوں کو فنی زبان میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے: 1. Observation, hypothesis, verification 2. Hypothesis, observation, verification ایک سادہ مثال سے اس معاملے کی عملی وضاحت ہوتی ہے۔ مثلاً آپ سیب کو شمار کرنا چاہتے ہیں تو آپ کہتے ہیں— دو سیب جمع دو سیب، برابر چار سیب۔ یہ مشاہداتی استدلال کی ایک مثال ہے۔ دوسرے استدلال کی مثال یہ ہے کہ نیوٹن (وفات 1727) نے دیکھا کہ ایک سیب درخت سے گر کر نیچے آیا۔ یہ ایک مشاہدہ تھا۔ اُس نے سوچنا شروع کیا کہ سیب درخت سے ٹوٹ کر اوپر کیوں نہیں گیا، وہ نیچے کیوں آگیا۔ اِس سوچ کے بعد وہ ایک استنباط تک پہنچا، وہ یہ کہ زمین میں قوتِ کشش ہے۔ اِس کے بعد اس نے دوسرے متعلق شواہد (relevant data) کا جائزہ لیا تو اِس بات کی تصدیق ہو گئی کہ اس کا استنباط درست (valid) تھا ۔ سائنسی متھڈالوجی کو سمجھنے کے لیے میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں ۔ یہاں میں ایک کتاب کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ مشہور برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل (وفات 1970) کی کتاب ہیومن نالج (Human Knowledge) ہے۔ اِس کتاب میں مصنف نے بتایا ہے کہ علم کی دو قسمیں ہیں— چیزوں کا علم، سچائیوں کا علم: Knowledge of things, knowledge of truths چیزوں کی دریافت میں مشاہداتی طریق استدلال کارآمد ہے، لیکن خدا کے وجود کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader