خدا کا وجود
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
معاملہ سچائی کے موضوع سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں وہی استدلال قابل انطباق ہے، جس کو استنباطی استدلال (inferential argument) کہا جاتا ہے۔ غالباً 1965 کی بات ہے، میری ملاقات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے ہوئی۔ وہ فلسفہ کے پروفیسر تھے۔ اُن سے خدا کے وجود کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے ایک سوال کیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے آپ کے پاس کرائٹیرین کیا ہے: What criterion do you have to prove the existence of God. میں نے جواب دیا— وہی کرائٹیرین جو آپ کے پاس اس نوعیت کی کسی چیز کو ثابت کرنے کے لیے ہو: Same criterion that you have to prove anything else. اِس کے بعد میں نے اُن کے سامنے مذکورہ طریقہ استدلال کی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ خدا کے وجود کا معاملہ سچائی (truth) کے موضوع سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ سچائی کی نوعیت کی کسی چیز کو ثابت کرنے کے لیے جس کرائٹیرین کو استعمال کرتے ہیں، اُسی کرائٹیرین کو خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیجیے، اور پھر آپ جان لیں گے کہ خدا کا وجود بھی اُسی علمی معیار سے ثابت ہوتا ہے، جس علمی معیار سے اس نوعیت کی دوسری چیزیں ثابت ہو رہی ہیں۔ سنجیدہ اہل علم نے اِس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ مثلاً معروف فلسفی، مفکر برٹرینڈ رسل (1970-1872) نے اعتراف کیا ہے کہ تھیالوجین عام طور پر خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے وہ طریقہ استعمال کرتے ہیں جس کو ڈیزائن سے استدلال ( argument from design) کہا جاتا ہے۔ برٹرینڈ رسل کے مطابق، یہ طریقہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader