خدا کا وجود
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
پورے معنوں میں سائنسی منطق (scientific logic) مبنی ہے۔ اس لیے یہ استدلال اصولی طور پر اتنا ہی حقیقی ہے، جتنا کہ کوئی دوسرا سائنسی استدلال۔ اس استدلال کا خلاصہ یہ ہے: Where there is design, there is designer and when designer is proved, the existence of God is also proved. اشیا کا سائنسی مطالعہ 1609 میں شروع ہوا، جب کہ اطالوی سائنس داں گلیلیو گلیلی (وفات 1642) نے ابتدائی دوربین (telescope) کے ذریعے ستاروں کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد دور بینی مشاہدے (observation) میں مزید ترقی ہوئی، یہاں تک کہ 1949 میں پلومر آبزرویٹری (Palomar Observatory) کیلی فورنیا قائم ہوئی، جس کے ذریعے زیادہ بڑے پیمانے پر آسمانی مشاہدہ ممکن ہو گیا۔ اس کے بعد الیکٹرانک دوربین ایجاد ہوئی جس کو 1990 میں امریکا کی ہبل آبزرویٹری میں نصب کیا گیا۔ اس قسم کے مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا کہ تقریباً 13.8 بلین سال پہلے خلا میں بگ بینک کا واقعہ ہوا جس کے بعد ستاروں اور سیاروں کی موجودہ دنیا وجود میں آئی۔ اس کے بعد تقریباً ایک بلین سال پہلے لٹل بینک (little bang) ہوا جس کے ذریعے موجودہ شمسی نظام (solar system) وجود میں آیا۔ اس کے بعد سیارۂ ارض پر واٹر بینک (water bang) ہوا اور زمین پانی سے بھر گئی۔ اس کے بعد زندگی اور زندگی سے متعلق تمام چیزیں پیدا ہوئیں۔ بولٹزمن (Ludwig Eduard Boltzmann, 1844-1906) ایک آسٹریئن سائنس داں ہے۔ اس نے ان کائناتی حقیقتوں (signs) کو دیکھ کر کہا تھا ۔ کیا یہ خدا تھا، جس نے ان نشانیوں کو لکھا، جو میرے اردگرد کے نیچر کی پر اسرار اور پوشیدہ فورسز کو ظاہر کرتی ہیں، جو میرے دل میں مسرت اور خوشی کی لہر پیدا کر دیتی ہے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader