Urdu book · خدا کی دریافت

خدا کا وجود

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

کائنات میں واضح طور پر ایک ذہین منصوبہ بندی (intelligent planning) پائی جاتی ہے۔ ایک چھوٹے ذرے سے لے کر عظیم کہکشانی نظام تک یہ منصوبہ بندی نمایاں طور پر ہمارے مشاہدے میں آتی ہے۔ یہ منصوبہ بندی بلا شبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک بہت بڑا ذہن (mind) کارفرما ہے۔ یہ عقیدہ اتنا ہی سائنسی ہے، جتنا کہ ایکس رے کی قابل مشاہدہ تصویر کو دیکھ کرنا قابل مشاہدہ ایکس ریز (X-Rays) کے وجود کو ماننا۔ موجودات کے مشاہدے سے ایک عظیم حقیقت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اُس میں جگہ جگہ یکسانیت کے ساتھ استثناء (exception amidst uniformity) کی مثالیں موجود ہیں۔ استثناء اُس کو کہا جاتا ہے جو عام قانون کے خلاف ہو، جو عام قانون کی پابندی نہ کرے: Exception: That does not follow the rule. نیچر میں اس معاملے کی ایک سادہ مثال یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد کے ہاتھ میں پانچ انگلیاں ہوتی ہیں۔ یہ انگلیاں ہر ایک میں یکساں طور پر ہوتی ہیں۔ لیکن ہر ایک کے ہاتھ میں اس کے انگوٹھے کا نشان (finger print) ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ہر ایک کا نشان دوسرے کے نشان سے الگ ہوتا ہے۔ اِس عموم میں یہ استثناء ایک برتر ہستی کی بالقصد مداخلت کے بغیر ممکن نہیں۔ نیچر میں بھی اِس قسم کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق، خلا میں تقریباً 125 بلین کہکشائیں (galaxies) موجود ہیں۔ ہر گلیکسی کے اندر تقریباً 200 بلین ستارے پائے جاتے ہیں۔ لیکن شمسی نظام ایک استثنائی نظام ہے، جو صرف ہماری قریبی کہکشاں ملکی وے (milky way) میں پایا جاتا ہے۔ عظیم کائنات میں یہ استثناء ایک طاقت ور ہستی کی بالقصد مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا: Exception means intervention, and when intervention

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page