خدا کا وجود
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
پر گھومتے ہیں۔ مگر ہماری زمین اپنے مدار پر گردش کرتے ہوئے اپنے محور (axis) پر بھی گھومتی ہے۔ زمین کی یہ دہری گردش (double-rotation) ایک انتہائی استثنائی گردش ہے، جو کسی بھی ستارے یا سیارے میں نہیں پائی جاتی۔ یہ استثنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کے پیچھے ایک ایسے برتر عامل کو تسلیم کیا جائے جس نے اپنی خصوصی مداخلت کے ذریعے یہ با معنی استثنا خلا میں قائم کر رکھا ہے۔ ہماری زمین پر استثنا کی ایک ایسی انوکھی مثال پائی جاتی ہے، جو ساری کائنات میں کہیں بھی موجود نہیں، یہ لائف سپورٹ سسٹم (life support system) ہے۔ اس لائف سپورٹ سسٹم کے بغیر زمین پر انسان کا یا کسی اور نوع حیات کا وجود ممکن نہ تھا۔ لائف سپورٹ سسٹم کا یہ استثنائی انتظام خدا کی موجودگی کا ایک ایسا ثبوت ہے، جس کا انکار کوئی سنجیدہ انسان نہیں کر سکتا۔ البرٹ آئن سٹائن (وفات 1955) کو بیسویں صدی عیسوی کا سب سے بڑا سائنسی دماغ مانا جاتا ہے۔ آئن سٹائن نے کائنات کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اُس نے کائنات کے ہر حصے میں حیرت ناک حد تک معنویت (meaning) پائی۔ یہ دیکھ کر اُس نے کہا۔ عالم فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ نا قابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے: The most incomprehensible fact about nature is that it is comprehensible. آئن سٹائن اپنے اس قول میں بالواسطہ طور پر خدا کے وجود کا اقرار کر رہا ہے۔ اگر اس کے قول کو بدل کر کہا جائے تو وہ اس طرح ہوگا— خدا کے بغیر عالم فطرت مکمل طور پر نا قابل فہم رہتا ہے، اور خدا کے ساتھ عالم فطرت مکمل طور پر قابل فہم بن جاتا ہے: Without God, nature is totally inocmprehensible, and with God, nature becomes totally comprehensible.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader