خدا کا وجود
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب مذکورہ خاتون نے جو بات کہی، وہ کوئی سادہ بات نہیں تھی۔ اصل یہ ہے کہ خدا کے بارے میں دو الگ الگ تصور (concept) پائے جاتے ہیں۔ ایک ہے، توحید (monotheism)، یعنی خدا کو ایک شخصی وجود (personal God) کے طور پر ماننا۔ اور دوسرا ہے وحدتِ وجود (monism) کا تصور، یعنی خدا کو غیر شخصی ہستی (impersonal God) کے طور پر ماننا۔ یہ وہی چیز ہے، جس کو کچھ دوسرے لوگ داخل میں بسا ہوا خدا (indwelling god) کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ وحدتِ وجود کو سنسکرت میں ادویت واد کہا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق، خدا ایک اسپرٹ ہے، جس طرح قوت کشش (gravity) ایک اسپرٹ ہے۔ وہ ہر ایک چیز کے اندر موجود ہے۔ وحدتِ وجود کے نظریے کو اگرچہ مسلم صوفیوں نے اختیار کر لیا، لیکن وہ ایک نادرست نظریہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وحدتِ وجود کوئی مذہبی تصور نہیں، وہ صرف ایک فلسفیانہ تصور ہے جس کو مذہب میں شامل کر لیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس نے کائنات کا جو مطالعہ کیا ہے، اُس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ کائنات کی تخلیق اور اس کے نظام میں ایک برتر ذہن (superior mind) کام کر رہا ہے، جس کو ایک سائنس داں نے شعوری وجود (conscious being) کا نام دیا ہے۔ اس طرح سائنس کی دریافتوں نے وحدتِ وجود کے تحت مفروضہ تصورِ خدا کی مکمل طور پر تردید کردی ہے، جس طرح اُس نے زمین مرکزی (geo-centric) شمسی نظام کی تردید کردی تھی۔ اس کے برعکس، سائنس کی دریافتیں پورے معنوں میں عقیدہ توحید کے تحت بیان کردہ تصورِ خدا کی علمی تصدیق بن گئی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader