Urdu book · خدا کی دریافت

سائنس کی واپسی

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس کی واپسی ایک درخت جس کی جڑ کٹی ہوئی ہو، اس کو زمین میں لگائیں تو پہلے دن وہ بہ ظاہر ہرا بھرا دکھائی دے گا۔ مگر اگلے ہی دن اس کی پتیاں مرجھانا شروع ہو جائیں گی۔ یہاں تک کہ وہ سوکھ کر ختم ہو جائے گا۔ یہی حال موجودہ زمانے میں الحاد اور انکارِ مذہب کا ہوا ہے۔ ابتدا میں ایسا معلوم ہوتا تھا گویا مذہب کا دور ختم ہو گیا، اور اب انسانی تاریخ ہمیشہ کے لیے لا مذہبیت کے دور میں داخل ہوگئی۔ مگر جلد ہی یہ تمام خیالات بکھر گئے ۔ مذہب نئی طاقت کے ساتھ دوبارہ انسانی زندگی میں لوٹ آیا۔ انیسویں صدی کے آخر تک علمی دنیا میں اس چیز کا زور تھا، جس کو علمی الحاد (scientific atheism) کہا جاتا ہے۔ مگر بیسویں صدی میں سائنس میں جو نئی تحقیقات ہوئیں، انھوں نے علمی الحاد کو بے زمین کرنا شروع کر دیا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں سرجیمز جینے نے اعلان کیا تھا کہ جدید سائنس نے جو کائنات دریافت کی ہے، وہ مشینی توجیہہ (mechanical interpretation) کو قبول کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ اب اس صدی کے آخر میں نظریاتی طبیعیات دانوں (theoretical physicists) کی بڑی تعداد ایسی پیدا ہوگئی ہے، جو کائنات کی تشریح ایسے انداز میں کر رہی ہے، جس کے مطابق ، خدا کو مانے بغیر کائنات کی توجیہہ ممکن نہیں۔ اس سلسلے میں 1988 میں ایک قابلِ ذکر کتاب چھپی ہے۔ یہ 200 صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب کا نام اور مصنف کا نام حسبِ ذیل ہے: Stephen W. Hawking, A Brief History of Time. بگ بینگ (Big Bang) نظریہ کہتا ہے کہ کائنات اپنے آغاز سے اب تک ایک خاص رفتار سے مسلسل پھیل رہی ہے۔ اس سلسلے میں اسٹیفن ہاکنگ نے حساب لگا کر بتایا ہے کہ کائنات کے پھیلنے کا یہ عمل نہایت سوچا سمجھا (well-calculated) ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page