خدا کی دریافت
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو اور جہاں وہ اپنے ’’گل‘‘ کے دورِ حیات کو خوشیوں اور راحتوں کے ساتھ گزار سکے۔ مگر دوسری طرف ہر انسان اس تضاد میں مبتلا ہے کہ وہ بظاہر تمام مادی چیزیں حاصل کر لینے کے با وجود اپنی مطلوب دنیا بنا نہیں پاتا۔ بورڈم، نقصان، بیماری، ایکسیڈنٹ، بوڑھاپا اور آخر میں سو سال سے بھی کم مدت میں موت، یہی اس دنیا میں انسان کی کہانی ہے۔ یہی معاملہ ہر عورت اور ہر مرد کا ہے۔ ہر ایک اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ذہن میں ایک آئیڈیل کا تصور بسا ہوا ہوتا ہے۔ مگر ہر ایک اپنی حسین تمناؤں کو لیے ہوئے مر جاتا ہے، قبل اس کے کہ اس نے اپنی مطلوب دنیا کو عملاً پایا ہو۔ یہاں دوبارہ ایک مشاہدہ سامنے آتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ دنیا میں عالمگیر طور پر زوجین (pairs) کا اصول قائم ہے۔ یہاں ہر چیز جوڑے جوڑے کی صورت میں ہے ۔ ہر چیز دو کے ملنے سے مکمل ہوتی ہے ۔ ایٹم میں نگٹیو پارٹیکل اور پازیٹیو پارٹیکل، ستاروں کی دنیا میں جوڑا ستارے (pair stars)، نباتات کی دنیا میں نر اور مادہ، حیوانات کی دنیا میں مذکر اور مؤنث، انسان کی دنیا میں مرد اور عورت۔ اس عالمگیر فطری اصول کو زوجین کا اصول (pair principle) کہا جاسکتا ہے۔ یہ اصول بتاتا ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔ اسی عالمگیر اصول میں مذکورہ سوال کا جواب ہے۔ اس کے مطابق، ساری دنیا میں ایک جوڑادنیا (pair world) ہے ۔ موجودہ دنیا کے ساتھ ایک اور دنیا موجود ہے، اور اسی دنیا کے ملنے سے ہی موجودہ دنیا اپنے وجود کو مکمل کرتی ہے۔ آغاز کی تکمیل اب مذکورہ مشاہدے کی روشنی میں دیکھیے تو اس بات کی واضح تصدیق ہو جاتی ہے کہ عالم آخرت کا نظریہ درست ہے۔ عالم آخرت موجودہ دنیا کا جوڑا (pair) ہے، جس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader