فطرت کا حصہ
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے کے لیے اس کی فطرت کے دروازے کھل جائیں۔ وہ اس کو ایک فطری سچائی کے طور پر پہچان کر اپنالے۔ ہر انسان کے پاس وہ آنکھ موجود ہے، جو خدا اور آخرت کو دیکھ سکے، مگر اس آنکھ کے اوپر کنڈیشنگ کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ منطقی دلیل یہ کام کرتی ہے کہ وہ اس کنڈیشنگ یا اس ذہنی رکاوٹ (mental block) کو توڑ کر اس مصنوعی پردہ کو فطرت کی آنکھ سے ہٹا دے۔ اس کے بعد انسان خدا اور آخرت کو صاف دیکھنے لگتا ہے۔ اب انسان بظاہر نہ دکھائی دینے والے خدا کے وجود پر اسی طرح کامل یقین کر لیتا ہے، جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کے وجود پر کامل یقین رکھتا ہے۔ حالاں کہ اس نے کبھی اپنے آپ کو ماں کے پیٹ سے نکلتے ہوئے نہیں دیکھا۔ خدا اور آخرت کا معاملہ صرف اس وقت تک منطقی بحث کا موضوع رہتا ہے، جب تک کہ آدمی کے ذہن کا مصنوعی پردہ ہٹانہ ہو۔ غور و فکر یا منطقی استدلال کے ذریعے جب یہ پردہ ہٹ جائے تو انسان اپنے خدا کو خود اپنی داخلی معرفت کے تحت پہچان لیتا ہے۔ اب خدا اس کے لیے تمام معلوم چیزوں سے زیادہ معلوم واقعہ بن جاتا ہے۔ منطقی دلیل کا کام صرف یہ ہے کہ وہ انسان کو فطرت کے دروازے تک پہنچادے۔ فطرت کا دروازہ کھلتے ہی انسان خدا کو اس طرح پالیتا ہے، جیسے کہ وہ پہلے ہی سے اس کو جانتا تھا۔ انسان کی آنکھ پر پٹی بندھی ہوئی ہو تو ضرورت ہوتی ہے کہ سورج کے وجود کو اس کے لیے دلائل سے ثابت کیا جائے۔ لیکن جب آنکھ کی پٹی ہٹادی جائے تو اس کے بعد سورج کو ماننے کے لیے اسے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی معاملہ خدا کا ہے۔ خدا کا شعور انسان کی فطرت میں آخری حد تک سمایا ہوا ہے۔ اصل ضرورت صرف فطرت کا پردہ ہٹانے کی ہے۔ دلیل کے ذریعے جب فطرت کا پردہ ہٹا دیا جائے تو انسان خدا کو اس سے بھی زیادہ یقین کے ساتھ دیکھنے لگتا ہے، جتنا کہ ایک کھلی آنکھ والا انسان آفتاب کو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader