Urdu book · خدا کی دریافت

جدید سائنس

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

جدید سائنس رابرٹ بائل (Robert Boyle) مشہور سائنس داں ہے۔ وہ 1627 میں پیدا ہوا، اور 1691 میں لندن میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے سائنس کے مطالعے کو اپنا موضوع بنایا۔ مگر سائنس کے مطالعے نے اس کو مذہب سے دور نہیں کیا، بلکہ اور قریب کر دیا۔ آخر میں وہ پختہ قسم کا پروٹسٹنٹ عیسائی بن گیا۔ اس نے شادی نہیں کی، اور اپنی تمام کمائی مسیحی مذہب کی تبلیغ کے لیے وقف کر دی۔ رابرٹ بائل خدا کے وجود کو مانتا تھا۔ اس کے خیال کے مطابق، فطرت کا نظام ایک گھڑی کی مانند ہے۔ خدا نے اس کو پیدا کیا اور اس کو ابتدائی طور پر چلا دیا۔ اب وہ ثانوی قانون کے تحت عمل کر رہی ہے۔ جس کا سائنس کے ذریعے مطالعہ کیا جا سکتا ہے: In his view of divine providence, nature was a clocklike mechanism that had been made and set in motion by the Creator at the beginning and now functioned according to secondary laws, which could be studied by science (3/97). یہ بیسویں صدی سے پہلے کی سائنس تھی۔ اس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ کائنات میں یکسانیت (uniformity) ہے۔ کائنات کے تمام اجزا یکساں قوانین کے تحت چل رہے ہیں۔ مگر بیسویں صدی میں پہنچ کر یہ نظریہ باقی نہ رہ سکا۔ کائنات کبیر (macrocosm) کے مطالعے میں یہ ظاہر یہ دکھائی دیا تھا کہ کائنات میں یکسانیت کی کارفرمائی ہے۔ مگر کائنات صغیر (microcosm) کے مطالعے نے اس مفروضہ کو رد کر دیا۔ شمسی نظام کی سطح پر انسان کو جو یکسانیت نظر آتی تھی، وہ ایٹم کی سطح پر پہنچ کر ٹوٹ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کو خدا ہی نے اپنے حکم سے بنایا ہے، اور وہی اپنے حکم سے اس کو چلا رہا ہے۔ نہ کائنات کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page