وحی و الہام
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
وحی والہام قرآن کی سورہ النخل میں ہے: وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ (16:68)۔ یعنی اللہ نے شہد کی مکھی کو وحی کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں میں بعض ایسی نشانیاں ہیں جو وحی سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ان کا مطالعہ وحی الہی کے معاملے کو انسان کے لیے قابل فہم بنا دیتا ہے۔ وحی کے عقیدے کا مطلب خارجی ذریعہ علم سے رہنمائی کا آنا ہے۔ جانور کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کے درمیان اس قسم کا ذریعہ علم واضح طور پر موجود ہے۔ جانوروں میں ایسی صفات پائی جاتی ہیں، جن کی توجیہ اس کے سوا کچھ اور نہیں کی جاسکتی کہ یہ مانا جائے کہ ان کو اپنے باہر سے ہدایات مل رہی ہیں۔ انھیں صفات میں سے ایک صفت جانوروں کی مہاجرت (migration) کا معاملہ ہے۔ خاص طور پر مچھلیوں اور چڑیوں کی مہاجرت اپنے اندر ایسی نشانیاں رکھتی ہے جس کے بعد وحی والہام کے معاملے کو سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں رہتا۔ یہاں ہم مہاجر چڑیوں (migratory birds) کا حوالہ دیں گے۔ بہت سی چڑیاں ہیں جو خوراک کی تلاش میں یا موسم کی تبدیلی کی بنا پر ایسا کرتی ہیں کہ خاص خاص وقتوں میں اپنے اصل مقام سے ہجرت کر کے دوسرے موزوں تر مقامات پر جاتی ہیں، اور پھر ایک خاص مدت کے بعد دوبارہ اپنے سابق مقام پر واپس آجاتی ہیں۔ ان پروازوں کے بارے میں موجودہ زمانے میں نہایت وسیع مشاہدات کیے گئے ہیں۔ ان سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پروازیں بے مقصد اڑان کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ بلکہ ایک ماہر طیور کے الفاظ میں ان کی حیثیت نہایت اعلیٰ درجے کے جغرافی وبست (geographical arrangement) کی ہے۔ وہ اتنا ہی بامعنی ہیں، جتنا کسی انسان کا سوچا سمجھا ہوا سفر بامعنی ہوتا ہے۔ نیز مشاہدات کے ذریعے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ پروازیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader