وحی و الہام
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
انتہائی صحیح طور پر مقرر راستوں (well-defined flyways) پر انجام پاتی ہیں۔ چڑیوں کا یہ سفر نہایت عجیب ہے۔ انسان کے لیے صحیح طور پر ایک مقام سے دوسرے مقام پر جانا اسی وقت ممکن ہوتا ہے، جب کہ اس نے راستہ اور منزل کی پوری معلومات خارج سے حاصل کرلی ہوں۔ یہ ”خارچی ذریعہ“ انسان کے لیے دوسروں سے سننا یا دوسروں کی تحقیق کو پڑھنا یا خود بیرونی احوال کا تجربہ کرنا ہے۔ اگر انسان کو تاریخی طور پر جمع شدہ معلومات سے، آپس کے تبادلہ خیال سے، یا تعلیم گاہوں کی تعلیم سے کاٹ دیا جائے تو انسان کچھ نہ کر سکے۔ مثال کے طور پر الادریسی (ابو عبد اللہ محمد بن محمد الادریسی، 1166-1100ء) نے زمین کے گول ہونے کا ابتدائی تصور ہندی نظریہ عرین (Arin) سے لیا۔ پھر الادریسی کی کتاب کے لاطینی ترجمے سے یہ فکر کولمبس تک پہنچی۔ پھر کولمبس (Christopher Columbus, 1451-1506) کے تجربات سے بعد والوں کے علم میں اضافہ ہوا۔ یہ سلسلہ ایک کے بعد ایک اسی طرح بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ جغرافیہ کا علم ترقی کے اس درجے تک پہنچا، جو آج کے انسان کو حاصل ہے۔ آج جب سمندری جہاز کا ایک کپتان وسیع سمندر میں داخل ہو کر اس ساحل سے اُس ساحل تک اپنا جہاز لے جاتا ہے۔ یا ہوائی جہاز کا پائلٹ ایک براعظم سے اُڑ کر دوسرے براعظم میں اترتا ہے تو اس عمل کے پیچھے سیکڑوں سال کے انسانی تجربات کا علم شامل ہوتا ہے۔ چڑیاں اس طرح کا کوئی ذریعہ علم نہیں رکھتیں۔ وہ اس قسم کے ذریعے معلومات سے مکمل طور پر کٹی ہوئی ہیں۔ چڑیوں کے اندر باہم تبادلہ خیال نہیں ہوتا، جس طرح انسانوں کے اندر ہوتا ہے۔ اس بنا پر چڑیوں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ ایک چڑیا دوسری چڑیا کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنی معلومات کو بڑھائے۔ کوئی چڑیا اپنی معلومات کو کتاب کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader