Urdu book · خدا کی دریافت

وحی و الہام

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

Sea) اور بحرِ اسود (Black Sea) اور بحرِ متوسط (Mediterranean Sea) کو پار کرنا پڑتا ہے۔ یہ چڑیاں ایسا نہیں کریں کہ بے خبری کے عالم میں بس اپنے مقام سے اڑ کر کسی طرف بھی روانہ ہو جائیں۔ اس مقصد کے لیے وہ نہایت صحت کے ساتھ اس رخ کا تعین کرتی ہیں، جوان کے لیے موزوں ترین ہے۔ وہ نہایت صحت کے ساتھ عین وہ راستے اختیار کرتی ہیں، جدھر سے جانے میں انھیں کم سے کم سمندر کے اوپر سے گزرناپڑے۔ کیوں کہ خشکی پر بوقتِ ضرورت نیچے اتر سکتی ہیں، مگر سمندر میں اترنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ اس نقشے کو دائیں سے بائیں کی طرف دیکھیے۔ اس میں چڑیوں کا پہلا جھنڈ وہ ہے، جو یورپ سے آتے ہوئے وہاں پہنچتا ہے، جہاں ان کی راہ میں بحرِ کیسپین حائل ہے۔ یہاں وہ مڑ جاتی ہیں وہ بحرِ کیسپین کو کنارے چھوڑتے ہوئے ایک طرف قرا قرق کی جانب سے اور دوسری طرف کا کیشیا کی جانب سے پرواز کر کے ایشیا میں داخل ہوتی ہیں، اور اپنے مطلوبہ مقامات پر اتر جاتی ہیں۔ یہ چڑیاں یہی معاملہ بحرِ اسود کے ساتھ بھی کرتی ہیں۔ چنانچہ ان کا جھنڈ یہاں پہنچ کر دو ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ ان کا ایک حصہ بحر اسود کے مغربی ساحل سے اور دوسرا حصہ مشرقی ساحل سے اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایشیائی علاقے میں داخل ہو جاتا ہے ۔ ایک ماہرِ طیور (Ornithologist) نے لکھا ہے کہ یہ بخوبی طور پر الگ الگ راستے غالباً چڑیوں نے اس لیے اختیار کیے ہیں کہ وہ سمندر کے اوپر لمبی پرواز سے بچ سکیں: These well-separated routes are probably a result of the stork’s aversion to long flights over water (Encyclopedia Britannica “migration” 12/180) اس کے بعد چڑیوں کے تیسرے جھنڈ کا منظر ہے۔ یہ چڑیاں یہ بلغاریہ تک آ کر ترکی کی طرف مڑ جاتی ہیں۔ پھر شام، لبنان اور فلسطین کے ساحلی علاقوں میں سفر کرتے ہوئے وہ سوئز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page