Urdu book · خدا کی دریافت

وحی و الہام

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

تک پہنچتی ہیں۔ یہاں سے وہ مصر کی سرزمین میں داخل ہوتی ہیں اور پھر آگے افریقی علاقوں میں چلی جاتی ہیں۔ چڑیوں کا چوتھا جھنڈ یونان کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ جس کی خشکی لمبی نوک کی مانند بہت دور تک سمندر کے اندر چلی گئی ہے۔ یہ چڑیاں یونان اور کریٹ کی خشکی کا سہارا لیتے ہوئے سمندر میں داخل ہوتی ہیں۔ یہ سمندر کا وہ مقام ہے جو سب سے کم چوڑا ہے۔ وہ اپنے طویل سفر میں سمندر کو عین اس نقطے پر عبور کرتی ہیں، جہاں جغرافی طور پر اس کی چوڑائی سب سے کم ہو جاتی ہے۔ چڑیاں اس راستے کو واضح طور پر اس لیے اختیار کرتی ہیں کہ انھیں کم سے کم سمندر کے اوپر پرواز کرناپڑے۔ یعنی عین وہی وجہ جس کی بنا پر قدیم زمانے میں انسانی قافلے بیچ سمندر میں اپنی کشتی ڈالنے کے بجائے "آبنائے" کے مقام پر سمندروں کو عبور کیا کرتے تھے۔ چڑیوں کا پانچواں جھنڈ وہ ہے، جو آگے بڑھ کر اٹلی کے راستے پر مڑ جاتا ہے۔ وہ اٹلی کے اوپر پرواز کرتے ہوئے سیسلی میں داخل ہوتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے دائیں اور بائیں سمندر کو چھوڑتا ہوا لمبا راستہ خشکی کے اوپر اوپر طے کرتا ہے، اور پھر سیسلی کے ساحل سے سمندر میں داخل ہو کر افریقہ میں پہنچ جاتا ہے، دوبارہ عین اسی مقام پر جہاں سمندر کی چوڑائی سب سے کم تھی۔ چڑیوں کا چھٹا جھنڈ اس نقشے میں فرانس کی طرف جاتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور پھر وہ اسپین کی طرف مڑ کر خشکی کے اوپر اترتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جبرالٹر کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ جہاں وسیع سمندر صرف دس میل چوڑارہ جاتا ہے۔ یہ چڑیاں سمندر کو عبور کرنے کے لیے اس موزوں ترین مقام کا انتخاب کرتی ہیں۔ وہ یہاں پہنچ کر سمندر میں داخل ہوتی ہیں، اور آبنائے جبرالٹر کو پار کر کے افریقہ کی زمین پر اتر جاتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page