وحی و الہام
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
چڑیوں کے یہ اسفار انتہائی حد تک حیرت انگیز ہیں۔ آج کا ایک انسان جب اس قسم کا طویل سفر کرتا ہے تو وہ بہت سے علوم سے مدد لیتا ہے۔ مگر چڑیوں کے اندر نہ انسانی ذہن ہے اور نہ علوم سے مدد لینے کا انتظام ۔ پھر چڑیاں کیوں کر اس قسم کے پیچیدہ اسفار میں کامیاب ہوتی ہیں، ایک ماہرِ طیور نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے: چڑیوں نے نہایت اعلیٰ درجے کے ارتقا یافتہ موثر ذریعے دریافت کر لیے ہیں تاکہ وہ لمبے فاصلوں پر کم سے کم طاقت خرچ کر کے بخوبی سفر کر سکیں۔ مگر یہ محض الفاظ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چڑیوں کے اندر یا ان کے حالات میں ہرگز ایسے شواہد موجود نہیں جو یہ ثابت کریں کہ چڑیوں نے کسی ارتقائی عمل کے ذریعے یہ صلاحیت اپنے اندر پیدا کی ہے۔ گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو اس معاملے کی توجیہہ کے لیے دو ہی ممکن مفروضے ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ان چڑیوں کو یورپ اور ایشیا اور افریقہ کے جغرافیہ کا اور اس کی خشکی اور تری کا مکمل علم حاصل ہو۔ مگر کوئی بھی تحقیق ایسا ثابت نہیں کرتی ۔ ہماری تمام معلومات کے مطابق چڑیاں بذاتِ خود کسی بھی قسم کے جغرافی علم سے قطعاً نا بلد ہیں۔ اس مفروضے کو ثابت کرنے کے لیے جو کچھ کہا جاتا ہے، وہ محض بے بنیاد قیاس ہے، جس کے حق میں کوئی علمی شہادت موجود نہیں۔ اس کے بعد دوسرا ممکن مفروضہ صرف یہ ہے کہ کوئی ”واقف جغرافیہ“ ان کی رہنمائی کر رہا ہو۔ یہاں کوئی مخفی قسم کا ریموٹ کنٹرول ہو، جو چڑیوں کو ٹھیک اسی طرح مسلسل رہنمائی دے رہا ہو، جیسے ہمارے غیر انسان بردار اکٹ کورڈیائی کنٹرول کے ذریعے دور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader