Urdu book · خدا کی دریافت

وحی و الہام

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

سے رہنمائی دی جاتی ہے۔ یہی دوسری صورت زیادہ قرینِ قیاس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ اس عقیدے کو پوری طرح قابلِ فہم بنا دیتا ہے، جس کو آسمانی مذہب میں وحی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جانوروں کی زندگی میں ایسے واقعات ہیں جن کی توجیہ اس کے بغیر نہیں ہوتی کہ یہ مانا جائے کہ ان کو ایک خارجی خزانۂ علم سے رہنمائی مل رہی ہے۔ اسی کا نام مذہبی زبان میں وحی ہے۔ جانوروں کی زندگی کا مطالعہ وحی کے معاملہ کو قابلِ فہم بنا دیتا ہے، اور قرائن کے ذریعے کسی چیز کا قابلِ فہم ہونا ہی کافی ہے کہ اس کی واقعیت و صداقت پر یقین کیا جائے۔ وحی کے عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ خدا اپنے مخفی ذریعے سے ایک انسان پر اپنی رہنمائی بھیجتا ہے۔ یہ رہنمائی بتاتی ہے کہ انسان کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ خدا اور بندہ (پیغمبر) کے درمیان وحی کا یہ اتصال بہ ظاہر دکھائی نہیں دیتا، اس لیے کچھ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم کیوں کر اسے مانیں۔ مگر دوسری مخلوقات، مثلاً مہاجر چڑیوں کے سفر کے معاملے پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں ”وحی“ کی نوعیت کی رہنمائی موجود ہے۔ ان چڑیوں کا حد درجہ صحت کے ساتھ سفر کرنا ایک ایسا واقعہ ہے، جو وحی کے معاملے کو ہمارے لیے قابلِ فہم بنا دیتا ہے۔ کیوں کہ چڑیوں کے ان اسفار کی کوئی بھی حقیقی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی کہ یہ مانا جائے کہ ان کو خارج سے کوئی مخفی قسم کی رہنمائی مل رہی ہے۔ جب چڑیوں کے اپنے اندر اس کے معلوم اسباب موجود نہیں ہیں تو اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ اس کو خارج سے آنے والی چیز قرار دیا جائے۔ پیغمبر کا یہ دعویٰ کہ اس کو خدا کی طرف سے مخفی رہنمائی آتی ہے، بلاشبہ عجیب ہے۔ مگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page