معرفت تخلیق
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
ہونے والا تھا جس کو عام طور پر سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ اخوان رسول کا گروہ سائنسی زمانے کی دریافتوں سے واقف ہو کر اعلیٰ معرفت رب حاصل کرے گا۔ دوسری طرف وہ نئے طاقت ور ذرائع کو استعمال کر کے اُس عالمی دعوت کو انجام دے گا جس کو حدیث (مسند احمد، حدیث نمبر 23814) میں ادخال الکلمۃ فی کل البیوت (ہر گھر میں کلمہ اسلام کا داخلہ) کہا گیا ہے۔ بعد کے دور کے اہل ایمان روایات میں بعد کے دور کے ایسے اہلِ ایمان کا ذکر ہے جو ایمان و اسلام کے خصوصی اوصاف کے حامل ہوں گے۔ اس سلسلے میں چند روایتی یہاں نقل کی جاتی ہیں : حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ (سنن الترمذی ، حدیث نمبر 2869) یعنی میری امت کی مثال بارش کی مثال جیسی ہے۔ نہیں معلوم کہ اس کا پہلا زمانہ بہتر ہوگا یا اس کا آخری زمانہ۔ اس حدیث میں بارش کی مثال کے ذریعے ایک تاریخی پراس ( historical process) کو بتایا گیا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلاب آیا، وہ اپنے آغاز کے اعتبار سے، ایک زمانی ظاہر ہ تھا۔ اُس کے ذریعے جو تاریخی پراس جاری ہوا، وہ اپنے ما بعد انجام کے اعتبار سے مستقبل کا ایک واقعہ ہے۔ اس مستقبل سے مراد غالباً وہی تاریخی ظاہر ہ ہے جس کا حوالہ دوسری روایت میں اخوان رسول کے الفاظ میں ملتا ہے۔ حضرت مالک الاشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اِنَّ لِلَّهِ عِبَاداً لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّوْنَ وَالشُّهَدَاءُ؛ لِمَقْعَدِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (مسند احمد، حدیث نمبر 22894) ۔ یعنی خدا کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ تو پیغمبر ہیں اور نہ شہید ہیں، ان کے اوپر پیغمبر اور شہید بھی رشک کریں گے، اُن کے اُس درجے اور قربت کی وجہ سے جو قیامت کے دن انھیں خدا کے یہاں حاصل ہوگا۔ اس روایت میں غالباً اُن اہلِ ایمان کا ذکر ہے جو دورِ سائنس میں پیدا ہوں گے، جب کہ فطرت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader