Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نئی دریافتوں کی بنا پر معرفت کا نیا فریم ورک وجود میں آئے گا اور اس کو استعمال کرکے کسی کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ اعلی معرفت کا تجربہ کرے۔ غالباً اس جماعت سے مراد وہی لوگ ہیں جن کو دوسری روایت میں اخوان رسول کہا گیا ہے۔ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں کا معاملہ ایک اعتبار سے یکساں ہے۔ وہ ہے اپنے زمانے کے مواقع کا دینی استعمال۔ اصحابِ رسول نے بنو اسماعیل کے ذریعے پیدا ہونے والی صحرائی تہذیب کے مواقع کو استعمال کیا۔ اخوانِ رسول بعد کے زمانے میں سائنسی دور کے مواقع کو دین کے لیے استعمال کریں گے۔ ان مواقع کو اخوانِ رسول کے ذریعے استعمال کئے جانے کی جو صورتیں مطالعہ کے ذریعے سمجھ میں آتی ہیں، وہ غالباً یہ ہوں گی : 1۔ فطرت میں سائنسی دریافتوں کے ذریعے پیدا ہونے والے استدلالی مواقع کا استعمال۔ مثلاً خدا کے وجود پر فلسفہ اور متکلمین کے مبنی بر معنویت استدلال (argument from design) کو جدید شواہد کے ذریعے مدلل کرنا۔ 2۔ جدید مواصلاتی مواقع کا عالمی دعوت کے لیے استعمال، یعنی پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا یا دوسرے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے دعوت کی عالمی اشاعت۔ 3۔ بعد کے دور میں حاصل ہونے والی مذہبی آزادی کا بھر پور استعمال، دعوتِ حق کی عمومی اشاعت کے لیے پرامن جدوجہد۔ عالمی اندازِ تبشیر قرآن کی سورہ الفرقان میں یہ آیت آئی ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ یعنی بہت برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر قرآن اتارا، تا کہ وہ سارے عالم کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن کو عالمی انذار و تبشیر کے لیے اتارا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں اترا۔ اُس وقت اور اس کے بعد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page