معرفت تخلیق
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
ہزار سال تک وہ ذرائع موجود نہ تھے جن کو استعمال کر کے قرآنِ کرہ ارض کے تمام انسانوں تک پہنچایا جائے، نہ قرآن کے چھپے ہوئے نسخے موجود تھے، نہ تیز رفتار سواریاں تھیں، نہ جدید کمیونی کیشن تھا۔ اُس زمانے میں ساری دنیا میں صرف علاقائی زبانیں (regional languages) تھیں ۔ کوئی ایسی بین الاقوامی زبان (international language) موجود نہ تھی جس میں ترجمہ کیا جائے تو قرآن تمام لوگوں کے لیے قابل فہم بن سکے، وغیرہ۔ ایسی حالت میں کیوں کر یہ ممکن تھا کہ قرآن کا مقصدِ نزول پورا ہو اور پہنچانے والے اس کو تمام انسانوں تک پہنچادیں۔ اس کا جواب قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورہ الانعام میں یہ آیت آئی ہے : وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ (6:19) ۔ یعنی اے رسول کہہ دو کہ مجھ پر یہ قرآن اترا ہے، تا کہ میں تم کو اُس سے خبردار کر دوں ، اور وہ بھی جسے یہ قرآن پہنچے، یعنی میں اپنے زمانے کے لوگوں کو آگاہ کروں، اور میرے بعد آنے والے اہلِ ایمان اپنے زمانے کے لوگوں کو اس سے آگاہ کرتے رہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ اپنے ہم زمانہ (contemporaries) لوگوں تک قرآن کو پہنچادے۔ اس کے بعد امت کی یہ مستقل ذمہ داری ہے کہ وہ ہر دور کے لوگوں تک قرآن کو پہنچاتی رہے۔ امت کی ہر نسل کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زمانے کے لوگوں تک اِسی طرح قرآن کو پہنچائے جس طرح پیغمبر نے اپنے زمانے کے لوگوں تک قرآن کو پہنچایا تھا۔ قرآن کی دعوتی اشاعت کا یہ کام نسل درنسل کیا جانے والا کام ہے۔ اس ابتدائی دور میں قرآن کی دعوتی اشاعت کا کام جن لوگوں نے انجام دیا، اُن کو صحابی اور تابعین اور مفسرین، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح دورِ آخر میں بھی امت کا ایک خصوصی گروہ ہوگا جو اپنے زمانے کے نئے پیدا شدہ مواقع دعوت کو استعمال کر کے قرآن کی عمومی اشاعت کا یہ کام انجام دے گا۔ آخری دور کا یہی وہ خصوصی گروہ ہے جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کا نام دیا گیا ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 249)۔ سیکولر سو یلائزیشن ، اسپرچول سو یلائزیشن قرآن کی سورہ الذاریات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader