Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

(56: 51)۔ اس آیت میں 'یعبدون' سے مراد 'یعرفون' ہے، یعنی اللہ نے جن اور انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے تا کہ وہ اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا ذریعہ غور وفکر (contemplation) ہے، یعنی تخلیقات میں غور کر کے خالق کی معرفت حاصل کرنا اور پھر اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کرنا۔ مقصدِ تخلیق کے بارے میں ایک مشہور قول یہ ہے : كُنتُ كنزاً مخفياً، فأحببتُ أن أعرَفَ، فخَلَقْتُ خَلْقاً (کشف الخفاء، حدیث نمبر 2016) یعنی اللہ نے فرمایا کہ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، پھر میں نے چاہا کہ میں جانا جاؤں، تو میں نے اس مقصد کے لیے خلق (انسان) کو پیدا کیا۔ کسی عارف کا یہ قول اصلاً سورہ الذاریات کی مذکورہ آیت کی تفسیر ہے۔ قائل نے کلام کی رعایت سے اس کو حدیث قدسی کے اسلوب میں بیان کر دیا ہے۔ اگر اسلوب کو بدل دیا جائے اور اس کو معروف تفسیری اسلوب میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا: كان الله كنزاً مخفياً، فأحبّ أن يُعرف، فخلق الخلق ۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے جنات کو پیدا کیا۔ ان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ کائنات میں چھپے ہوئے رموزِ معرفت کو دریافت کریں اور خدا کی عظمت کا اعلان واظہار کریں۔ مگر جنات کے سردار ابلیس کے قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات أنا خير منه (7: 12) کی نفسیات میں مبتلا ہو گئے، وہ اللہ کی کبریائی کی معرفت حاصل نہ کر سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جنات نے خود اپنی عظمت (self-glory) کو جانا، مگر وہ خدا کی عظمت (glory of God) کو دریافت کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا۔ انسان کی تخلیق اس لیے ہوئی کہ وہ جنات کے بعد اُن کا جانشین بنے۔ اِس وقت یہ معاملہ فرشتوں کی سمجھ میں نہیں آیا۔ انھوں نے یہ اشکال ظاہر کیا کہ جس طرح جن، مقصدِ تخلیق کو پورا کرنے میں ناکام رہے، اُسی طرح انسان بھی ناکام رہے گا، وہ تخلیق کے مقصد کو پورا نہ کر سکے گا۔ فرشتوں کے اشکال کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک مظاہرہ (demonstration) کا انتظام کیا۔ اس مظاہرے کا خلاصہ قرآن کے ان الفاظ میں ملتا ہے: عَلَّمَ آدَمَ الأسماء كلّها (2:31)۔ اس آیت میں اسماء سے مراد مسمیات ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے اضافی انعام کے طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page