معرفت تخلیق
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کو تمام اشیا کا علم عطا فرمایا، اُس نے انسان کی فطرت میں تمام تخلیقات کا علم داخل کر دیا۔ اس طرح انسان اپنے لاشعور (unconscious mind) کی سطح پر بطور امکان (potentially) ہر چیز سے واقف ہو گیا۔ اللہ تعالی نے فرشتوں کے سامنے وقتی طور پر اس کا مظاہرہ بھی کیا۔ اس کے بعد فرشتے مطمئن ہو گئے۔ قرآن کے اس حصے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات کو دماغ دیا گیا تھا، لیکن اجزائے معرفت کا پیشگی علم اُنھیں حاصل نہ تھا۔ اُن سے مطلوب تھا کہ وہ اپنے دماغ کو استعمال کر کے کائنات میں چھپے ہوئے رموز معرفت کو دریافت کریں۔ انھیں غور وفکر کے ذریعے اپنے نامعلوم کو معلوم بنانا تھا، مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے مزید اہتمام کے ساتھ انسان کو پیدا فرمایا۔ وہ مزید اہتمام یہ تھا کہ جن اجزائے معرفت کو اُس سے دریافت کرنا تھا، اس کو پیشگی طور پر اس کے لاشعور میں داخل کر دیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ (29:49)_ یعنی تمام اجزائے معرفت پیشگی طور پر انسان کے لاشعور (unconscious mind) میں موجود ہیں۔ اب انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اس لاشعور کو شعور میں لے آئے۔ دریافت یا ان فولڈ نگ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کو علمی دنیا میں دریافت (discovery) کہا جاتا ہے، وہ حقیقت میں دریافت نہیں ہے، بلکہ وہ ان فولڈ نگ (unfolding) ہے، یعنی جو چیزیں انسان کی فطرت میں پہلے سے بالقوہ (potential) طور پر موجود ہیں، اُن کو بالفعل (actual) طور پر وقوع میں لانا۔ جنات کو اپنے لامعلوم کو معلوم بنانا تھا، اس میں وہ ناکام ہو گئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اگلی مخلوق کے لیے تئیسیر کا معاملہ فرمایا، یعنی غیر شعوری سطح پر موجود چیزوں کو شعور کی سطح پر معلوم بنانا۔ سائنس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سائنس دانوں کی ہر دریاف اتفاقی دریافت ہے، وہ صرف اتفاقی طور پر سائنس داں کے علم میں آتی ہے: It is discovered by scientist by the way of accident.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader