Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ سائنسی دریافتوں کا معاملہ ایکسیڈینٹ (accident) کا معاملہ نہیں، بلکہ وہ کو انسڈینّس (co-incidence) کا معاملہ ہے، یعنی سائنس داں کوئی تجربہ کر رہا ہوتا ہے، اُس وقت ایک چیز فلیش (flash) کرتی ہے۔ یہ فلیش اس کے لاشعور میں موجود ایک علم سے مطابقت کرتا ہے۔ اس کے بعد سائنس داں مزید تجربہ کر کے ایک نئی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے، جس کو دریافت کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سائنس داں ایک باریک برتن کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ اس برتن کے اوپر ایک ڈھکن تھا اور برتن میں پانی بھرا ہوا تھا۔ برتن کے نیچے آگ جل رہی تھی۔ پانی کا درجہ حرارت جب 100 ڈگری تک پہنچ گیا تو اس کے اندر پیدا ہونے والی بھاپ سے ڈھکن اوپر اٹھ گیا۔ سائنس داں اس پر غور کرنے لگا، یہاں تک کہ اس نے دریافت کیا کہ پانی کا درجہ حرارت جب بڑھتا ہے تو اس کے مالکیول (molecule) ٹوٹ کر ادھر اُدر اڑنے لگتے ہیں۔ مالکیول کے اس انتشار (moleculor disintegration) سے اسٹیم پاور پیدا ہوتا ہے۔ اس پاور کے ذریعے انجن چلائے جاسکتے ہیں ہی پانی کی یہ خاصیت پہلے سے اس کے لاشعور میں موجود تھی۔ مذکورہ مشاہدہ اس کے لاشعور سے مطابقت کر گیا۔ مطابقت کے نتیجے میں انسان نے وہ چیز دریافت کی جس کو اسٹیم پاور (steam power) کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دریافتیں کو انسڈینّس کا نتیجہ ہوتی ہیں: Discoveries are results of co-incidence. حصول معرفت کا ذریعہ یہی معاملہ معرفت کا ہے۔ معرفت کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے وجود پر سوچتا ہے، وہ کائنات کے مظاہر میں غور وفکر کرتا ہے۔ اس طرح غور وفکر کے ذریعے وہ رموزِ معرفت کو دریافت کرتا ہے۔ ان رموزِ معرفت میں پچاس فی صد حصہ خارجی مظاہر کا ہے، اور پچاس فی صد حصہ داخلی اعتبار سے علم اشیا کا۔ یہی وہ علم اشیا ہے جس کو وجدان (intuition) کہا جاتا ہے۔ تدبر اور تفکر کے ذریعے یہ ہوتا ہے کہ آدمی دونوں کے درمیان مطابقت کو دریافت کرتا ہے۔ یہ واقعہ مسلسل پیش آتا ہے اور اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page