معرفت تخلیق
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
طرح مومن کا سفر معرفت مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ معرفت کا حصول کوئی پراسرار چیز نہیں، وہ تخلیق میں تدبر کر کے خالق کو دریافت کرنے کا نام ہے۔ یہ عمل اسلام کے ظہور کے بعد مسلمانوں میں ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہو گیا تھا۔ قرآن کے ذریعے ان کے اندر تحریک ہوئی اور وہ کائنات کی چیزوں میں معرفت کے نقطۂ نظر سے غور وفکر کرنے لگے۔ مثال کے طور پر ایک صحابی رسول ابوذر غفاری کہتے ہیں کہ: لَقَدْ تَرَكَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا يُحَرِّكُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ إِلَّا أَذْكَرَنَا مِنْهُ عِلْماً ( مسند احمد بن حنبل، حدیث نمبر 21361) یعنی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑا کہ ایک چڑیا بھی آسمان میں اپنا پر پھڑپھڑاتی تھی تو آپ اُس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے۔ تخلیق کے نظام میں غور وفکر کر کے معرفت کی خوراک حاصل کرنے کا کام مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر شروع ہوا اور صدیوں تک جاری رہا۔ علم کلام میں جس چیز کو مبنی بر براہین استدلال کہا جاتا ہے، وہ یہی ہے۔ مگر مسلمان علمِ معرفت یا سائنس آف معرفت کو ایک حد سے آگے نہ بڑھا سکے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ قدیم زمانے میں غور وفکر کے لیے صرف روایتی فریم ورک (traditional framework) موجود تھا، اور روایتی فریم ورک میں مشاہدہ اور تجربہ کا عمل صرف محدود دائرے میں ممکن ہوتا تھا۔ اس معاملے میں زیادہ وسیع غور وفکر صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہوا، جب کہ دور بین (telescope) اور خورد بین (microscope) جیسے آلات ایجاد ہوئے۔ دور بین کو پہلی بار گلیلیو نے 1609 میں فلکیاتی مشاہدے کے لیے استعمال کیا۔ خورد بین پہلی بار 1590 میں دریافت ہوئی۔ ان دریافتوں کے بعد عالمِ کبیر (macro world) اور عالمِ صغیر (micro world) دونوں کا مشاہدہ زیادہ گہرائی کے ساتھ ممکن ہو گیا۔ معرفت کے حقائق جواب تک انسان کی نگاہوں سے پوشیدہ تھے، وہ اب انسان کے براہِ راست علم میں آنے لگے۔ بعد کے دور میں یہ کام تمام تر اہل مغرب نے انجام دیا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں مغربی علماء کے ذریعے فطرت کی تحقیقات سامنے آئیں، انھوں نے معرفتِ خداوندی کے نئے وسیع تر دروازے کھول دئیے۔ اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader