Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ہوا کہ پہلے جو چیز صرف عقیدہ کا درجہ رکھتی تھی، وہ اب علمی مسلمہ کے درجے میں ایک ثابت شدہ واقعہ بن گئی (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب مذہب اور جدید چیلنج)۔ مغربی سائنس دانوں نے موجودہ زمانے میں جو کام کیا، وہ علم معرفت کے اعتبار سے بہت بڑا کام تھا۔ اس اعتبار سے، یہ مغربی علماء، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشین گوئی کا مصداق تھے: إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ لَيُؤَيِّدُ الإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ (معجم الکبیر، حدیث نمبر 14640)۔ ایک مغالطہ جدید سائنس کی دریافتیں دراصل آلاء اللہ (wonders of God) کی دریافتیں تھیں۔ وہ خالق کی معرفت کا ایک نیا خزانہ کھولنے کے ہم معنی تھیں۔ لیکن جن مغربی علماء نے اس میدان میں کام کیا، وہ سب سیکولر ذہن کے لوگ تھے۔ اس بنا پر عملاً یہ ہوا کہ یہ دریافتیں معرفتِ رب کے بجائے سیکولر نظریے کی حمایت بن کر رہ گئیں۔ حالاں کہ سائنس کا یہ سیکولرائیزیشن (secularization) صرف ایک مغالطہ (fallacy) کی حیثیت رکھتا تھا۔ مثلاً ایک مغربی مفکر نے جدید سائنس کی دریافتوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان دریافتوں سے معلوم ہوا کہ فطرت (nature) میں ایک قانون اسباب (law of causation) قائم ہے، یعنی ہر واقعہ اسباب وعلل کے نظام کے تحت واقع ہوتا ہے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے اُس نے لکھا ہے کہ اگر واقعات فطری اسباب کا نتیجہ ہوتے ہیں تو وہ فوق الفطری اسباب کا نتیجہ نہیں ہوسکتے: If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. مگر یہ صرف ایک مغالطہ ہے، کیوں کہ فطرت کا قانون اپنے آپ میں توجیہہ نہیں ہے، بلکہ وہ خود اپنے وجود کے لیے ایک توجیہہ کا طالب ہے۔ اس اعتبار سے، صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ اگر واقعات قوانین سے کنٹرول ہوتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس کا ایک کنٹرول کرنے والا ہو: If events are controled by laws, then there must be a controller of laws.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page