معرفت تخلیق
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
جرمن سائنس داں البرٹ آئن اسٹائن ( وفات 1955 ) نے فطرت کے نظام کا گہرا مطالعہ کیا۔ اس کو نظر آیا کہ فطرت کے نظام میں نہایت با معنی ڈیزائن پایا جاتا ہے۔ اس طرح وہ گویا کہ معرفت کے دروازے تک پہنچ گیا، لیکن اس نے یہ کہہ دیا کہ فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ نا قابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے : The most incomprehensible fact about nature is that it is comprehensible. یہ بلاشبہ ایک مغالطہ آمیز بیان ہے۔ آئن اسٹائن نے جب فطرت میں غیر معمولی معنویت دیکھی تو اس کو برعکس طور پر یہ کہنا چاہیے تھا کہ فطرت میں اتنی زیادہ معنویت پائی جاتی ہے کہ ضروری ہے کہ اس کا ایک ڈیزائنر ہو : Nature is so well-designed that it is inconceivable that there is no designer of it. جنت کا دور قرآن کی سورہ الکہف کی آخری چند آیتیں یہ ہیں : اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا - خَالِدِينَ فِیهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلا - قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (18:107-109) یعنی بے شک جولوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، اُن کے لیے فردوس کے باغوں کی مہمانی ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہ وہاں سے کبھی نکلنا نہ چاہیں گے۔ کہو کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات کو لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے ، تو سمندر ختم ہو جائے گا ، اس سے پہلے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں ، اگر چہ ہم ایسا ہی اور سمندر اس کی مدد کے لیے لے آئیں۔ قرآن کی ان آیات کے چار حصے ہیں۔ اس کے پہلے حصہ ( اِنَّ الذین آمنوا وعملوا الصالحات ) میں یہ بتایا گیا ہے کہ تخلیقی منصوبے کے مطابق ، خدا کا مطلوب انسان کون ہے۔ یہ وہ انسان ہے جو خالق کو دریافت کرے۔ یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ اس کی پوری زندگی ہر اعتبار سے اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader