معرفت تخلیق
Urdu book, p. 125
By Maulana Wahiduddin Khan
کے مطابق ڈھل جائے، وہ کامل معنوں میں ایک ربانی انسان بن جائے۔ یہی وہ ربانی انسان ہے جو آخرت کی دنیا میں خدا کے سب سے بڑے انعام کا مستحق قرار پائے گا۔ آیت کا دوسرا حصہ یہ ہے: کانَت لہم جنات الفردوس نزلاً۔ اس حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ ربانی انسان کو آخرت میں یہ موقع ملے گا کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں ابدی طور پر قیام کر سکے۔ جنت کی دنیا میں یہ قیام مہمانی (hospitality) کے طور پر ہوگا، یعنی جنت میں ان ربانی انسانوں کا قیام سادہ طور پر صرف عیش کے لیے نہ ہوگا، بلکہ وہ مہمانی کے طور پر ہوگا۔ یعنی خدائی منصوبہ کے مطابق، اہل جنت مکمل طور پر ایک سرگرم زندگی گزاریں گے۔ یہ زندگی ان کے لیے پوری طرح تعب اور مشقت سے خالی ہوگی۔ وہ اُن کے لیے شغل فا کہ (یٰس، 36:55) کے ہم معنی ہوگی، یعنی پر لطف سرگرمیوں (enjoyable activities) کی زندگی۔ اس جنتی زندگی کے بارے میں تیسری بات یہ فرمائی کہ: خالدين فيها، لا يبغون عنها حِوَلاً۔ یعنی اس میں ہمیشہ رہنے کے باوجود اہل جنت کبھی اکتاہٹ (boredom) کا شکار نہ ہوں گے۔ وہ دوامی طور پر انتہائی معنوں میں ایک پر لطف مشغولیت کے ساتھ جنت میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ یہ سرگرمیاں کبھی ختم نہ ہوں گی اور نہ کبھی ان کی دل چسپیوں کی حد آئے گی۔ یہ اہل جنت کے لیے ایک ایسی مسرت ہوگی جو کامل بھی ہوگی اور ابدی بھی۔ مذکورہ قرآنی بیان کا چوتھا حصہ یہ ہے: قُل لَّوۡ كَانَ ٱلۡبَحۡرُ مِدَادٗا لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ ٱلۡبَحۡرُ قَبۡلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِهِۦ مَدَدٗا۔ قرآن کے یہ الفاظ اہل جنت کی اُس اعلیٰ ترین سرگرمی کو بتاتے ہیں جس میں اہل جنت کامل لذت ومسرت کے ساتھ مشغول رہیں گے۔ یہ سرگرمی ہے بی کلماتِ اللہ کی دریافت (discover) کرنا اور اس طرح اعلیٰ معرفت کے حصول کے لامتناہی سفر میں مشغول رہنا۔ انسان کے لیے سب سے زیادہ محبوب چیز یہ ہے کہ اس کی تمام خواہشیں (desires) پوری ہوں، اس کو پورا فل فل منٹ (fulfilment) حاصل ہو۔ اس کو انسان کی زندگی کا مادی تقاضا کہہ سکتے ہیں۔ یہ تمام تقاضے جنت میں انتہائی کامل اور آئیڈیل صورت میں پورے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader