Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوں گے۔ قرآن میں اسی کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ (41:31)۔ یعنی تمھارے لیے وہاں ہر وہ چیز ہے جس کو تمھارا دل چاہے، اور تمھارے لیے جنت میں ہر وہ چیز ہے جس کو تم طلب کرو گے۔ اہلِ جنت کا مشن دوسری اعلیٰ چیز جو ربانی انسان کو جنت میں مشن کی صورت میں حاصل ہوگی، وہ معرفت کی مسلسل دریافت ہے۔ یہ معرفت وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مختلف الفاظ میں مثلاً کلمات الله (الکہف، 18:109)، آلاءِ رب (الرحمن، 55:30) اور آیاتِ رب (فصلت، 41:53)، وغیرہ جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ جس خالق نے یہ انتہائی بامعنی کائنات بنائی ہے، وہ خود بلاشبہ ہزاروں بامعنی کائنات سے زیادہ بامعنی ہے۔ اس کی معنویت کا ایک بہت چھوٹا حصہ جدید سائنس نے دریافت کیا ہے۔ مگر سائنس دانوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ان کی دریافتیں اتنی زیادہ حقیر ہیں کہ وہ کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے (knowing more and more about less and less) کے ہم معنی ہیں۔ ایسے لامحدود حد تک بامعنی خالق کی دریافت بیک وقت ایک انتہائی پرمسرت تجربہ ہے اور اسی کے ساتھ وہ ایک لامتناہی عمل بھی۔ یہی وہ پرمسرت مشن ہے جس میں اہل جنت ہمیشہ کے لیے پرمسرت طور پر مشغول رہیں گے۔ انسان اصلاً ذہن (mind) کا نام ہے۔ ذہن سوچنے کا کام کرتا ہے۔ ذہن کے اندر سوچنے کی صلاحیت (thinking capacity) لامحدود حد تک پائی جاتی ہے۔ ایک سائنس داں نے کہا کہ پوری کائنات میں جتنے پارٹیکل (particle) ہیں، اتنے پارٹیکل صرف ایک فرد کے ذہن (individual brain) میں ہوتے ہیں۔ انسان کا ذہن لامحدود ہے، اس کے مقابلے میں انسان کی عمر بہت زیادہ محدود ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے ذہنی فل فل مینٹ (intellectual fulfilment) حاصل ہونا ممکن نہیں، جب کہ ذہنی فل فل مینٹ ہی انسان کا سب سے بڑا مطلوب ہے۔ انسان کے لیے سب سے بڑی خوشی (pleasure) کی بات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page