Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن کو استعمال کر کے سوچے اور نئی نئی دریافتیں کرے۔ دریافت (discovery) انسان کی سب سے بڑی لذت ہے اور یہی لذت انسان کو اس دنیا میں حاصل نہیں ہوتی۔ خدا کا تخلیقی منصوبہ اس سوال کا جواب ہے۔ خدا کا تخلیقی منصوبہ بتاتا ہے کہ انسان کی زندگی موت پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ وہ موت کے بعد ابدی طور پر جاری رہتی ہے۔ موت کے بعد کی یہ دنیا نہ صرف ابدی ہے، بلکہ وہ معیاری اور کامل بھی ہے۔ اس اگلی دنیا میں انسان کے لیے یہ موقع ہوگا کہ وہ اپنے ذہن کے پوٹینشل کو ان فولڈ (unfold) کرے، وہ اپنی تخلیقیت (creativity) کو ابدی طور پر جاری رکھے۔ وہ مسلسل طور پر وجد آمیز دریافتوں (thrilling discoveries) کی فضا میں جیتا رہے۔ یہ ابدی موقع انسان کو آخرت کی جنت میں ملے گا۔ جنت سادہ طور پر عیش کا مقام نہیں ہے۔ جنت کا زیادہ بڑا پہلو یہ ہے کہ جنت کی آفاقی وسعتوں میں وہ تمام اسباب انتہائی معیاری صورت میں موجود ہوں گے جو دنیا میں صرف ناقص صورت میں ملے تھے۔ قرآن کے مطابق، دنیا میں انسان کو سب چیزیں دی گئی ہیں، لیکن وہ سب بقدر ضرورت ہیں (وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ) ابراهيم، 14:34۔ لیکن آخرت میں یہ تمام چیزیں بقدر خواہش دی جائیں گی (وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ) فصلت، 41:31۔ انسان پیدائشی طور پر معیار پسند (idealist) ہے۔ ہر عورت اور مرد اپنی فطرت کے اعتبار سے کامل پسند (perfectionist) ہوتے ہیں، مگر تجربہ بتاتا ہے کہ کوئی بھی شخص اس دنیا میں اپنے آئیڈیل کو نہیں پا تا۔ ہر انسان ایک ایسی چیز کا متلاشی ہے جو موجودہ دنیا میں اُس کے لیے آخری حد تک ناقابل حصول ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ ہر انسان ایک متلاشی جنتِ حیوان ہے: Man is a paradise-seeking animal. یہ جنت انسان کو صرف آخرت میں ملے گی، اْس انسان کو جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو جنت میں بسائے جانے کا استحقاق ثابت کرے۔ موجودہ دنیا جنت کا استحقاق ثابت کرنے کے لیے ہے اور آخرت عملی طور پر جنت کو پانے کے لیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page