Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو جائے، وہ آدمی کے شعور کا سب سے زیادہ اہم حصہ بن جائے، اس کے ذریعہ آدمی کے اندر رہانی شخصیت کی تعمیر ہونے لگے۔ دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان معرفتِ حق کا دوسرا نام ہے۔ آدمی جب ایمان کو اور اپنے خالق کو صحیح طور پر پہچانے اور شعور کی گہرائیوں کے ساتھ وہ یہ جان لے کہ وہ صرف ایک عاجز بندہ ہے۔ ہر قسم کی بڑائیاں اور تمام قسم کے کمالات صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہیں، پھر یہ عمل اس کو اس حد تک متاثر کرے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے آگے ڈال دے، تو اسی گہرے ایمانی تجربے کا نام معرفت (realization) ہے، اور یہ معرفت، ایمان کا آغاز ہے۔ ایمان جب تک حق کی گہری معرفت نہ بنے، اللہ کے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اس عارفانہ ایمان کی ایک علامت یہ ہے کہ ایک آدمی کو اس کا تجربہ ہوتا ہے کہ اس کی آنکھوں سے آنسو کا سیلاب بہہ پڑتا ہے۔ یہ تجربہ اس کی اندرونی شخصیت میں ایک زلزلہ پیدا کر دیتا ہے۔ اس کے اندر ایک زبردست قسم کی روحانی ہلچل برپا ہو جاتی ہے۔ یہی گہرے آنسو گویا اس کے اندر برپا ہونے والے اس داخلی انقلاب کی تصدیق ہوتے ہیں۔ جس معرفتِ حق کے ساتھ آنسوؤں کی یہ تصدیق شامل نہ ہو، وہ معرفتِ حق، اللہ تعالیٰ کے یہاں معتبر نہیں۔ یہ ایمان کوئی سادہ بات نہیں، اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک کائناتی شہادت ہے۔ یہ حقائقِ خداوندی کو دیکھنے سے پہلے گویا اس کا مشاہدہ کر لینا ہے۔ یہ مجبورانہ اعتراف کا وقت آنے سے پہلے اس کا اختیاریانہ اعتراف کرنا ہے۔ یہ اُس خداوندِ ذوالجلال کے حق میں اپنی گواہی درج کرنا ہے جس کی گواہی ہر لمحہ خدا کے مقدس فرشتے کائناتی سطح پر انجام دے رہے ہیں۔ ایمان دراصل دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا فیصلہ ہے۔ یہ دنیا کی نعمتوں کے مقابلے میں آخرت کی نعمتوں کا طالب بننا ہے۔ جو لوگ اپنے سارے دل اور اپنے سارے دماغ کے ساتھ اس طلب کا ثبوت دیں، وہی وہ روحیں ہیں جن کو جنت کے ابدی باغوں میں داخل کیا جائے گا، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہ کبھی اُس سے باہر آنے کی تممنا نہ کریں گے (الکہف، 18:108)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page